اقتدہ (الانعام : ۹۱)
پس ان کی یعنی گذشتہ نبیوں کی جن کا اوپر ذکر آیا ہے اقتدا کر۔ ا س آیت سے آنحضرت ﷺ کی بڑ فضلیت ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جس قدر گذشتہ انبیاء ہوئے انہوں نے مخلوق کی ہدایت مختلف پہلوئوں سے کی اور مختلف قسم کی ان میں خوبیاں تھیں۔ کسی میں کوئی خوبی اور کمال تھا اور کسی میںکوئی۔ اور ان تمام نبیوں کی اقتداء کرنا یہ معنے رکھتا ہے کہ ان تمام متھرق خوبیوں کو اپنے اندر جمع کر لینا چاہیے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص جامع ان تمام خوبیوں کا ہے جو متفرق طور پر تمام ابنیاء میں پائی جاتی ہیں وہ تمام متفرق کمالات اپنے اندر جمع رکھتا ہے اس لیے وہ تمام انبیاء سے افضل ہے کیونکہ ہر ایک کی خوبی اس میں موجود ہے۔ اور وہ تمام متفرق خوبیوں کا جامع ہے۔ مگر پہلے اس سے کوئی نبی ان تمام خوبیوں کا جامع نہ تھا۔؎ٰ
۲۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء
(بوقت صبح)
انجام بخیر ہے فرمایا:
طب کے ظنی امور ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے پاس جو یقین ہوتا ہے وہ کہاں؟
پیشگوئیوں کا معاملہ مخفی رکھاجاتا ہے تا کہ تکالیف کا ثواب انسان حاصل کرے۔ درمیانی دکھ ہیں اور انجام بخیر ہے۔
حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی ایک رؤیا اور اس کی تعبیر
عاجز۲؎ راقم نے اپنی رؤیا بیان کی کہ ’’میں رات مولوی عبد الکریم صاحب کے واسطے بہت دعا کرتا تھا تو تھوڑی غنودگی میں ایسا معلوم ہوا کہ میں کہتا ہوں یا کوئی کہتا