جب ذرا مبتلا ہوتے ہیں تو ہوش میں آجاتے ہیں۔ نیچری مذہب کے لیی اسی قدر مستحکم ہوگ اجس قدر دنیوی آسائش و آرام میسر ہوگا۔ جس قدر مصائب ہوں گے ڈھیلا ہوتا جائے گا۔ جو شخص دنیوی و جاہت اور عہدہ پاتا ہے اور قوم میں ایک عزت دیکھتا ہے وہ کیا سمجھ سکتاہے کہ دین کیا چیز ہے؟ جو گروہ نمازوں میں تخفیف کرنی چاہتا ہے اور روزوں کو ارانا چاہتا ہے اور قرآن شریف کی ترمیم کرنے کا خواہشمند ہے۔ اگر اُسے ترقی ہو تو تم سمجھ لو کہ انجام کیا ہو۔ اس کے ضمن میں آپ نے نواب محمد حیات خاں مرحوم کا ذکر کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے کس طرح پر قبل از وقت مجھے اس کی بحالی کی اطلاع دی جس کی میں نے اس کو بھی خبر دیدی تھی۔ لیکن جب بحال ہو گیا تو پھر وہ ساری باتیں جو معطلی کے زمانہ میں تھیں بھول گئیں۔؎ٰ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء؁ حق محنت کی ادائیگی فرمایا: خدا تعالیٰ کی طلب مین جو شخص پوری کوشش نہیں کرتا وہ بھی کافر ہے۔ ہر ایک چیز کو جب اس کی حد مقررہ تک پہنچایا جاتا ہے تب اس سے فائدہ حاصل ہو سکتاہے۔ جیسے اس زمین میں چالیس یا پچاس ہاتھ کھودنے سے کنؤاں تیار ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف چار پانچ ہاتھ کھود کر چھوڑ دے اور کہہ دے کہ یہاں پانی نہیں ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس شخص نے حق محنت کا ادا نہیں کیا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی فضیلت (قبل از ظہر) فرمایا: یہ جو قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے فبھد ھم