قوم ترقی کاراز
خوب یاد رکھو کہ اصل طریق ترقی کا یہی ہے۔ جبتک قوم اﷲ تعالیٰ کے لیے قدم نہیں اُٹھاتی اور اپنے دلوں کو پاک و صاف نہیں کرتی کبھی ممکن نہیں کہ یہ قوم ترقی کر سکے۔یہ خیال محض غلط ہے کہ صرف انگریزی پڑھنے اور انگریزی لباس پہننے اور شراب پینے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوین سے ترقی ہو سکتی ہے۔ یہ تو ہلاک کرنے کی راہ یہ۔ نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جو قوم رہتی تھی کیا وہ معاش اور آسائس کے سامان نہ رکھتے تھے؟ اسی طرح لوط علیہ السلام کے زمانہ میں بھی معاش کے ذریعے تھے۔ اسی طرح اس زمانہ میں بھی معاش کے بعض زریعے ہیں جن میں سے ایک یہ زبان بھی ہے جو معاش کا ذریعہ سمجھی گئی ہے لیکن وہ زبان جو خدا تعالیٰ کی زبان ہے۔ اُسے اﷲ تعالیٰ نے علم و معرفت کی نجی بنایا ہے۔ جب انسان تعصب سے پاک ہو کر تدبر سے قرآن شریف کو دیکھے گا اور اعراض صوری اور معنوی سے باز رہے گا بلکہ دعائوں میں لگا رہے گا۔ تب ترقی ہوگی۔
یہ لوگ جو قومی ترقی قومی ترقی کا شور مثارہے ہیں۔ میں ان کی آوازوں کو سنکر حیران ہوا کرتا ہوں کہ شاید ان کو مران ہی بھولا ہوا ہے اور ناپائداد زندگی کو انہوں نے مقدم کر لیا یہ۔ یہ چاہتے ہیں کہ یورپ جیسے امیر کبیر بن جاویں۔ ہم منع نہیں کرتے کہ حد مناسب تک کوئی کوشش نہ کرے۔ مگر افراط تو مذموم امر ہے۔ افسوس ان ترقی ثاہنے والوں کے نزدیک عملی طور پر ہر ایک بدی حلال ہے یہاں تک کہ زنا بھی۔ جیساکہ یورپ کا عملی طرز بتا رہا یہ۔ اگر یہی ترقی ہے تو پھر ہلاکت کیا ہوگی؟ پس تم اپنی نیتوں کو پاف کرو۔ اﷲ تعالیٰ کو رضا مند کرو۔ دعائوں میں لگے رہو اور دین کی اشاعت کے لیے دعا کرو۔ پھر منع نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس قسم کی استعداد اور مناسبت معاش کے لیے دی ہے اس سے کام لو۔ زراعت ہو یا ملازمت یا تجارت کرو مگر یہ نہیں کہ اسکو مقصود بالذات سمجھ کر دل اس سے لگا لو ۔بلکہ دل اس سے ہمیشہ اداس رکھو اور اسے ایک ابتلا سمجھو اور دعا رکتے رہو کہ خدا تعالیٰ وہ زمانہ لاوے کہ فراغت کا زمانہ یاد الٰہی کیلئے میسر آوے۔میری غرض اور تعلیم تو یہ ہے۔ جو اس پر مخالفت کرے ا سکا اختیار ہے۔ ہنسی کرے اختیار ہے مگر حق یہی ہے۔
جو لوگ آزاد مسرب ہیں وہ ایسی باتوں پر سخت ہنسی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ اطفال کے درجہ پر ہیں اور ہمیں تیرہ سو برس پیچھے لے جاتے ہیں مگر جن میں تقویا ہو اور موت کو یاد رکھتے ہیں وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان دونوں میں سے حق پر کون ہے؟
میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ جب تک صحت ہے اس وقت تک یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن