ایک دفعہ اوائل دعوت میں آنحضرت ﷺ نے ساری قوم کو بلایا۔ ابو جہل وغیرہ سب ان میں سامل تھے۔؎ٰ اہل مجمع نے سمجھا تھا کہ یہ مجمع بھی کسی دنیوی مشورہ کے لیے ہوگا۔ لیکن جب ان کو اﷲتعالیٰ کے آنے والے عذاب سے ڈرایا گیا تو ابو جہل۲؎ بول اُٹھا تبا لک الھذاجمعتنا۔ غرض باوجود اس کے کہ آنحضرت ﷺ کو وہ صادق اور ماین سمجھتے تے مگ راس موقعہ پر انہوں نے خطر ناک مخالفت کی اور ایک آگ مخالفت کی بھڑک اٹھی، لیکن آخر آپ کامیاب ہوگئے اور آپؐ کے مخالف سب نیست و نابود ہوگئے۔ ترقی کرنے کے گر فرمایا : لوگ چاہتے ہیں کہ ترقی ہو مگر وہ نہیں جانتے کہ ترقی کس طرح ہوا کرتی ہے۔ دنیا داروں نے تو یہی سمجھ لیا یہ کہ یورپ کی تقلید سے ترقی ہوگی۔ مگ رمیں کہت اہوں کہ ترقی ہمیشہ راستبازی سے ہوا کرتی ہے۔ اس کے لیے اﷲ تعالیٰ نے نمونہ رکھاہوا ہے۔ آنحضرت ﷺ اور آپ کی جماعت کا نمونہ دیکھو۔ ترقی اسی طرح ہوگی جیسے پہلے ہوئی تھی۔ اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ پہلے جو ترقی ہوئی وہ صلاح اور تقویٰ اور راستبازی سے ہوئی تھی۔ وہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کے جویا ہوئے اور اس کے احکام کے تابع ہوئے۔ اب بھی جب ترقی ہوگی۔ اسی طرح ہوگی۔ سید احمد خاں قومی قومی کہتے تھے۔مگر افسوس ہے کہ وہ ایک بیٹے کی بھی اصلاح نہ کر سکے۔ اس سے ثابت ہوت اہے کہ دعویٰ کرنا اور چیز ہے اور اس دعویٰ کی صداقت کو دکھانا اور بات۔ اصل یہی ہے جو کچھ اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں سکھایا ہے۔ جبتک مسلمان قرآن شریف کے پورے متبع اور پابند نہیں ہوت یوہ کسی قسم کی ترقی نہیں کرسکتے۔ جس قدر وہ قرآن شریف سے دور جارہے ہیں اسی قدر وہ ترقی کے مدارج اور راہوں سے دور جا رہے ہیں۔ قرآن شریف پر عمل ہی ترقی اور ہدایت کا موجب ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے تجارت، زراعت اور ذرائع معاش سے جو حلال ہوں،منع نہیں کیا۔ مگر ہان اس کو مقصود بالذات قرار نہ دیا جاوے بلکہ اس کو بطور خادم دین رکھنا چاہیے۔ زکوٰۃ سے بھی یہی منشا ہے کہ وہ مال خادم دین ہو۔