لیا جائے گا۔ہم نے بار بار مجلسوں میں بیان کیا ہے اور لکبھا ہے کہ
انہ اوی القریۃ
سے یہ مراد ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس قریہ کو پناہ دے دی ہے کہ وہ طاعون جارف سے بچی رہے اور بالکل فنا نہ ہو۔خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ نہیں کیا کہ باوجود گنہگار نوہے کے اﷲ تعالیٰ بغیر عذاب کے چھوڑدے۔ایک طرھ تو قرآن میں یہ کہ طاعون سے کوئی بستی خالی نہیں رہے گی ارو طاعون کی وجہ صرف یہی ہے جو
ان اﷲ لا یغیر ما بقوم حتی یغیر واما بانفسہم (الرعد : ۱۲)
کے الہام سے ظاہر ہے یعنی جب لوگوں نے اپنے افعال اور اعمال سے غضبِ الیہی کے جوش کو بھڑ کایا اور بدعملیوں سے اپنی حالتوں کو ایسا بدل لیا کہ خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی ہر ایک راہ کو چھوڑ دیا اور بجائے اس کے طرح طرح کے فسق و فجور کو اختیار کر لیا اور خدا تعاسلیٰ پر ایمان سے بالکل ہاتھ دھودیا۔دہریت اندھیری رات کی طرح دنیا پر محیط ہو گئی اور اﷲ تعالیٰ کے نورانی چہرے کو ظلمت کے نیچے دبا دیا تو خدا تعالیٰ نے اس عذاب کو نازل کیا تا لوگ خد اتعالیٰ کے چہرے کو دیکھ لیں اور اس کی طرھ رجوع کریں۔بعض بستیان مھلکوھا میں داخل نہ ہوگی۔یہی مراد الہام
انہ اوی القریۃ
سے ہے۔گناہوں کی طرزنش کرنے کے لیے خدا تعالیٰ نے یہاں بھی طاعون نازل فرمائی۔خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے
لو لا الاکرام لھلک المقام۔
یعنی قدیان مھلکوھا میں داخل کر دیا جاتا ،لیکن صرف تمہاری تکریم اور تعظیم سے اس کو مھلکوھا میں داخل نہیں کیا گیا۔جو بچے ہیں اور جو بچیں گے وہ تمہارے اکرام کی وجہ سے بچیں گے۔یہ تو قرآن کے بالک مخالھ یہ کہ قادیان عذاب طاعون سے بالکل محفوظ رہے۔ایک طرف تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ان اﷲ لا یغیر ما بقوم حتی یغیر و اما بانفسہم (الرعاد : ۱۲)
دوسری طرف انہ اوی القریۃ کے اگر یہ معنے ہوں کہ قادیان بالکل بچ گئی تو ان دونوں کے درمیان تضاد واقع ہوتا ہے۔دو ضدین جمع نہیں ہو سکتیں۔ہم نے کبھی انہ اوی القریۃ کے یہ معنی نہیں سمجھے ۔طاعون تو دنای کی ہر ایک بستی میں آئے گی۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ جہاں کسی نے دعویٰ کی کہ فلاں مقام میں طاعون نہیں تو اسی جگہ ظاہر ہو جاتی ہے۔دہلی والوں نے بڑے زور سے لکھ اتھا کہ دو وجوہ سے وہاں طاعون نہیں آتی اور نہ آئے گی۔ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں کے لوگ بہت صفائی رکھتے ہیں۔دوسرے مچھروں کا واہں نہ ہونا۔اب گزٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی طاعون آگئی۔لاہور کی نسبت کہا جاتا تھا کہ اس کی سرزمین میں ایسے زجزاء ہیں کہ اس میں طاعونی کیڑے زندہ نہیں رہ سکتے۔لیکن وہان بھی طاعون نے آن ڈیرا ڈالا ہے۔ابھی لوگوں کو معلوم نہیں ہے لیکن سالہا سال کے بعد لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔کئی لوگ اور دیہات بھی بالکل تباہ ہو جائیں گے۔