لیتی ہیں۔
غرض ہم کو وہ مشکلات پیش نہیں آئے جو آنحضرت ﷺ کو پیش آئے۔ باوجود اس کے آنحضرت ﷺ فوت نہیں ہوئے جب تک پورے کامیاب نہیں ہو گئے۔ اور آپﷺ نے
اذا جاء نصر اﷲ والفتح ورایت الناس ید خلون فی دین اﷲ افواجا (النصر : ۲،۳)
کا نظارہ دیکھ نہیں لیا۔
آج ہمارے مخالف بھی ہر طرح کی کوشش ہمارے نابود کرنیکی کرتے ہیں۔ مگر خد اتعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے اور انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ جس قدر مخالفت اس سلسلہ کی انہوں نے کی ہے اسی قدر ناکامی اور نامرادی ان کے شامل حال رہی ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو بڑھایا ہے۔ یہ تو خیال کرتے اور رائے لگاتے ہیں کہ یہ شخص مر جاوے گا اور جماعت متفرق ہو جاوے گی۔ یہ فرقہ بھی دوسرے فرقہ برہموؤن وغیرہ کی طرح ہے کہ جن میں کوئی کشش نہیں ہے اس لیے اس کے ساتھ ہی اس کا خاتمہ ہو جاوے گا مگر وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے خدو ارادہ فرمایا ہے کہ اس سلسلہ کو قائم کرے اور اُسے ترقی دے۔ کیا آنحضرت ﷺ ، حضرت موسیٰ ؑاور حضرت عیسیٰ ؑ کے فرقے نہ تھے۔ اس وقت ان کے مخالف بھی یہی سمجھتے ہوں گے کہ بس اب ان کا خاتمہ ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اُن کو کیسا نشونما دیا اور پھیلا یا۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ اگر کوئی فرقہ تھوڑی سی ترقی کرکے رک جات اہے تو کیا ایسے فرقوں کی نظیر موجود نہیں جو عالم پر محیط ہو جاتے ہیں۔ ا سلیے اﷲت عالیٰ کے ارادوں پر نظر کر کے حکم کرنا چاہیے۔ جو لوگ رہ گئے اور اُن کی ترقی رک گئی ان کی نسبت ہم یہی کہیں گے کہ وہ اس کی نظر میں مقبول نہ تھے۔ وہ اس کی نہیں بلکہ اپنی پرستش چاہتے تھے مگر میں ایسے لوگوں کو نظیر میں پیش کرتا ہوں جو اپنے وجود سے جل جاویں اور اﷲ تعالیٰ ہی کی عظمت اور جلال کے خواہسمند ہوں۔ اس کی راہ میں ہر دکھ اور متو کے اختیار کرنے کو آمادہ ہوں۔ پھر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انہیں تباہ کردے؟ کون ہے جو اپنے گھر کو خود تباہ کردے؟ اُن کا سلسلہ خد اتعالیٰ کا سلسلہ ہوتا ہے اس لیے وہ خود اسے ترقی دیتا ہے اور اس کے نشونما کا باعث ٹھہرتا ہے۔
ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں ہوئے ہیں۔ کیا کوئی بتا سکت اہے کہ ان میں سے کون تباہ ہوا؟ ایک بھی نہیں۔ اور پھر آنحصرت ﷺ کو مجموعی طور پر دیک لو کیونکہ آپ جامع کمالات تھے۔ ساری قوم آپﷺ کی دشمن ہو گئی اور اس نے قتل کے منصوبے کئے۔ مگر آپﷺ کی اﷲ تعالیا نے وہ تائید کی جس کی نطیر دنیا میں نہیں ملتی۔