پھر عربوں جیسی وحشیانہ زندگی رکھنے والی قوم میں آپؐ نے وہ ترقی کی جس کی نطیر دنای کی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ مخالفوں میں سے ہی خد اکی مرضی پوری کرنے والے پاک دل نکلیں گے اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتاہے کہ خود ان کی مذہبی تعلیم اور عقاید کے خلاف انہیں سنایا کہ یہ لات اور عزیٰ جن کو تم اپنا معبود قرار دیتے ہو یہ سب پلید اور حطب جہنم ہیں۔ اس سے برھ کر اور کون سی بات عربوں کی ضدی قوم کو جوس دلانے والی ہو سکتی تھی۔ لیکن انہیں عربوں میں آنحضرت ﷺ نے نشونما پایا اور ترقی کی۔ انہیں میں سے حضرت ابو بکر ؓ جیسے بھی نکل آئے۔ اس سے ہمیںامید ہوتی ہے کہ انہیں مخالفوں سے وہ لوگ بھی نکلیں گے جو خدا تعالیا کی مرضی پورا کرنے والے اور پاک دل ہوں گے اور یہ جماعت جو اس وقت تک تیار ہوئی ہے آخر انہیں میں سے آئی ہے۔کئی دفعہ میر صاحب؎ٰ نے ذکر کای کہ دلی سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے مگر میرے دل میں یہی آتا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ دلی میں بھی بعض پاک دل ضرور چھپے ہوئے ہوں گے۔ جو آخر اس طرف آئین گے۔ اﷲ تعالیا نے جو ہمارا تعلق دلی سے کیا ہے یہ بھی خالی از حکمت نہیں۔ اﷲ تعالیا سے ہم کبھی نا امید نہیں ہو سکتے۔ آخر خود میر صاحب بھی دلی ہی کے ہیں۔۲؎ غرض یہ کوئی نا امید کرنے والی بات نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کا پاک اور کامل نمونہ ہمارے سامنے ہے کہ مکہ والوں نے کیسی مخالفت کی اور پھر اسی مکہ میں سے وہ لوگ نکلے جو دنیا کی اصلاح کرنے والے ٹھہرے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ابو بکر ؓ انہیں میں سے تھے۔ وہ ابو بکرؓ جن کی بابت آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابو بکر کی قدر و منزلت اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ پھر حضرت عمر ؓ انہیں مکہ والوں میں سے تھے۔ حضرت عمرؓ برے بھاری مخالف تے یہانتک کہ ایک مرتبہ مشورہ قتل میں بھی شریک اور قتل کے لیے مقرر ہوئے لیکن آخر خدا تعالیٰ نے ان کو وہ جوش اظہار اسلام کا دیا کہ غیر قومیں بھی ان کی تعریفیں کرتی ہیں اور ان کا نام عزت سے