راتوں کی دعائیں ہی مشکلات کو ختم کریں گی انبیاء علیہم السلام کے حالات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ان کو مشکلات نذر آتی تھیں تو بجز اس کے اور کوئی صورت نہ ہوتی تھی کہ وہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعائیں کرتے تھے۔ قوم تو صمٌ بکمٌ ہوتی ہے۔ وہ ان کی باتیں سنتی نہیں بلکہ تنگ کرتی اور دکھ دیتی ہے۔ اس وقت راتوں کی دعائیں ہی کام کیا کرتی تھیں ۔اب بھی یہی صورت ہے۔ باوجود یکہ اسلام ضاف کی حالت میں ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی بحالی کے لیے پوری کوشش کی جواے لیکن مین دیکھتا ہوں کہ ہم جب سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر طرح سے ہماری مخالفت کے لیے سعی کی جاتی ہے۔ یہ میری مخالفت نہیں خدا تعالیٰ سے جنگ ہے۔ میں تو یہانتک یقین رکھتا ہوں کہ اگر میری طرف سے کوئی کتاب اسلام پر جاپان میں شائع ہو تو یہ لوگ میری مخالفت کے لیے جاپان بھی جا پہنچیں ۔ لیکن ہوتا وہی ہے جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔ وہ شخص بڑا ہی مبارک اور خوش قسمت ہے جس کا دل پاک ہو اور اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے اظہار کا خواہاں ہوں کیونکہ اﷲ تعالیٰ اس کو دوسروں پر مقدم کر لیتا ہے۔ جو لوگ میری مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا اور ہمارا فیصلہ ال تعالیا ہی کے سامنے ہے۔ وہ ہمارے اور ان کے دلوں کو خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس کا دل دنیا کے نمود اور نمائش کے لیے ہے اور کون ہے جو خدا تعالیٰ ہی کے لیے اپنے دل میں سوزو گداز رکھتا ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ترقی کا باعث آپؐ کے دل کی طہارت تھی یہ خوب یاد رکھو کہ کبھی روحانیت صعود نہیں کرتی جبتک دل پاک نہ ہو۔ جب دل میں پاکیزگی اور طہارت پیدا ہوتی ہے تو اس میں ترقی کے لیے ایک خاص طاقت اور قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر اس کے لیے ہر قسم کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں اور وہ ترقی کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو دیکھو کہ بالکل اکیلے تھے اور اس بیکسی کی حالت میں دعویٰ کرتے ہیں یا یھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا (الاعراف : ۱۵۹) کون اس وقت خیال کر سکتا تھا کہ یہ دعوے ایسے بے یارومدد گار شخص کا بار آور ہوگا۔پھر ساتھ ہی اس قدر مشکلات آپ کو پیش آئے کہ ہمیں تو ان کا ہزارواں حصہ بھی نہیں آئے۔ وہ زمانہ تو ایسا زمانہ تھا کہ سکھا شاہی سے بھی بدتر تھا۔ اب تو گورنمنٹ کی طرف سے پورا امن اور آزادی ہے۔ اس وقت ایک ثالاک آدمی ہر قسم کی منصوبہ بازی سے جو کچھ بھی چاہتا دکھ پہنچاتا۔ مگر مکہ جیسی جگہ میں اور