اﷲ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا ظاہر کرنا مقصود خاطر ہو فرمایا: دنیا تو ایسی ہے کہ ؎ کار دنیا کسے تمام نہ کرو اﷲ تعالیٰ کا یہ ایک سر بستہ راز ہے جو کسی پر نہیں کھلا کہ موت کس وقت آجاوے۔ پھر جب موت آگئی تو سب مال و اسباب یہاں کا یہان ہی رہ جاتا ہے اور بعض اوقات اُس کے وارث وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اگر مرنے والا زندہ ہوتا تو ایک حبہ بھی ان کو دینا پسند نہیں کرتا تھا۔ پھر کیسی غلطی ہے کہ انسان اپنے مال کو ایسی جگہ خرچ نہ کرے جو اس کے لیے ہمیشہ کے واسطے راحت اور آسائش کا موجب ہو جاوے۔ میں حیران ہوتا ہوں جب یورپ کی طرف دیکھتا ہوں کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنانے کے لیے ان میں اس قدر جوش اور سرگرمی ہے اور ہم میں خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے ظاہر کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔ یہ کس قدر بدقسمتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ محض اﷲ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لیں۔ اگر اُسے خوش کریں تو سب کچھ مل سکت اہے ۔مگر ان کی یہی تو بدقسمتی ہے کہ وہ اس کو ناراض کر رہے ہیں۔ مجھے بہت ہی افسوس ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوںکو خدا تعالیٰ نے ایک سچا دین اسلام عطا کیا تھا مگر انہوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ خد اجانے یہ بے پروائی کیا نتیجہ پیدا کرے۔ دین کی کچھ بھی پروا اور غیرت نہیں۔ باہم اگر جنگ و جدل ہے تو اس میں سیخی۔ ریا۔عجب مقصود ہے نہ کہ اﷲ تعالیٰ کا جلال اور اس کی عظمت۔ لیکن جو سخص ہر امر میں اﷲ تعالیٰ کو مقدم کرے اور اس کے دین کی حمیت اور غیرت میں ایسا محو ہو کہ ہر کام میں اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا ظاہر کرنا اس کا مقصود خاطر ہو۔ ایسا شخص اﷲ تعالیٰ کے دفتر میں صدیق کہلاتا ہے۔ ہم جس طریق پر اسلام کو پیش کر سکتے ہیں دوسرا نہیں کر سکتا۔ مگر مشکلات یہ ہیں کہ ہماری جماعت کا بہت بڑا حصہ غرباء کا ہے۔ لیکن اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ باوجود یکہ یہ غرباء کی جماعت ہے تاہم میں دیکھتا ہوں کہ ان میں صدق ہے اور ہمدردی ہے اور وہ اسلام کی ضروریات سمجھ کرحتی المقدور اس کے لیے خرچ کرنے سے فرق نہیں کرتے۔ اﷲ تعالیٰ ہی کا فضل ساتھ ہو تو کام بنتا ہے اور ہم ا س کے فضل کے امیدوار ہیں۔ اﷲ تعالیٰ اسلام کو تمام حملوں سے بچائے گا جس طرح پر ایک طوفان قریب آتا ہو تو انسان کو فکر ہوتا ہے کہ یہ طوفان تباہ کردے گا اسی طرح پر اسلام پر طوفان آرہے ہیں۔ مخالف ہر وقت ان کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ کہ اسلام تباہ ہو جاوے لیکن میں یقین رکھتاہوں کہ اﷲ تعالیٰ اسلام کو ان تمام حملوں سے بچائے گا اور وہ اس طوفان میں بھی اس کا بیڑا سلامتی سے کنارہ پر پہنچاوے گا۔