طرف سے جو کارروائی ہو رہی ہے اس کا انسداد بجز قلم کے نہیں ہوسکتا۔ یہ نری خام خیالی اور بیہودگی ہے جو مخالف تو اعتراض کریں اور اس کا جواب تلوار سے ہو۔ خد اتعالیٰ نے کبھی اس کو پسند نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی جو مسیح موعود کے وقت میں اس قسم کے جہاد کو حرام کر دیا ۔ اس ملک میں تو عیسائیوں کی ایسی تحریریں شائع ہوتی ہی رہتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ فتنہ اسی ملک میں ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ دوسرے ملکوں میں بھی اس قسم کی شرارتیں ہو رہی ہیں۔ مصر اور بلاد شام بیروت وغیرہ میں بھی ایسی تحریریں شائع کی جاتی ہیں یہانتک کہ لغت تک کی کتابوں میں شرارتیں کی جاتی ہیں۔
اس مقام پر حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ حضور فقہ اللغۃ ثعلبی کی ایک کتاب ہے۔ اُسے عیسائیوں نے چھاپا ہے۔ اس میں الحمد ﷲ والصلوٰۃ للالہ لکھ دیا۔ اور آنحضرت ﷺ کا نام ہی نکال دیا ہے۔ یہانتک دشمنی مد نظر ہے۔
پھر جاپان میں اشاعت اسلام کے سلسلہ پر فرمایا :
میں دوسری کتابوں پر جو لوگ اسلام پر لکھ کر پیش کریں بھروسہ نہیں کرتا۔ کیونکہ ان میں خود غلطیاں پری ہوئی ہیں۔ ان غلطیوں کو ساتھ رکھ کر اسلام کے مسائل جاپان یا دوسری قوموں کے سامنے پیش کرنا اسلام پر ہنسی کرانا ہے۔ اسلام وہی ہے جو ہم پیش کرتے ہیں۔ ہاں اشاعت اسلام کے لیے روپیہ کی ضرورت ہے اور اس پر اگر وہ روپیہ جو بینکوں کے سود سے آتا ہے خرچ کیا جاوے تو جائز ہے کیونکہ وہ خالص خدا کے لیے ہے۔ خد اتعالیٰ کے لیے وہ حرام نہیں ہے۔ جیسے میں نے ابھی کہا ہے کہ کسی جگہ کا سکہ و بارود ہو وہ جہاد مین خرچ کرنا جائز ہے۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ بلاتکلف سمجھ میں آجاتی ہیں کیونکہ بالکل صاف ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے سؤر کو حرام کیا ہے لیکن بایں ہمہ فرماتا ہے
ھمن اضطر گیر باغ ولا عاد ھلا اثم علیہ (البقرۃ : ۱۷۴)
جب اضطراری حالت میں محض اپنی جان بچانے کی خاطر سؤر کا کھانا جائز ہے تو کیا ایسی حالت میں اسلام کی حالت بہت ضعیف ہو گئی ہے اور اس کی جان پر آبنی ہے۔ اس کی جان بچانے کے لیے محض اعلائے کلمۂ اسلام کے لیے سود کا روپیہ خرچ نہیں ہوسکتا؟ میرے نزدیک یقینا خرچ ہو سکتا ہے اور خرچ کرنا چاہیے۔