کہ ہم بھی ان کے جواب میں قلم اٹھائیں اور رسالوں اور کتابوں کے ذریعہ انکے حملون کو رولیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ بیماری کچھ ہو اور علاج کچھ اور کیا جاوے۔ اگر ایسا ہو تو اس کا نتیجہ ہمیشہ غیر مفید اور برا ہوگا۔
یقینا یاد رکھو کہا گر ہزاروں جانیں بھی ضائع کر دی جائیں اور اسلام کے خلاف کتابوں کا ذخیراہ بدستور موجود ہو تو اس سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اصل یہی بات ہے کہ ان کتابوں کے اعتراضون کا جواب دیا جاوے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا دامن پاک کیا جاوے۔ مخالفوں کی