میں اسلام کی خوبیان دکھائی جاویں۔ اس کی تعلیم کے سارے پہلوئوں پر بحث ہو اور اس کے ثمرات اور نتائج بھی دکھائے جاویں۔ اخلاقی حصہ الگ ہو اور ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جاوے۔ یہ قلم کے جہاد کا زمانہ ہے ؁فرمایا : ؁میرے نزدیک تو یہ ضرورت ایسی ضرورت ہے کہ جس شخص پر حج فرض ہے۔ اُسے بھی چاہیے کہ وہ اپنا روپیہ اس دینی جہاد میں صرف کردے۔ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کو پانچوں نمازیں اکٹھی پڑھنی پری تھیں۔لیکن اب چونکہ تلوار کا جہاد نہیں بلکہ صرف قلم کا جہاد رہ گیا ہے۔ اس لیے اسی ذریعہ سے اس میں ہمت، وقت اور مال کو خرث کرنا چاہیے۔ خوب سمجھ لو کہ اب مذہبی لرائیوں کا زمانہ نہیں۔ اس لیے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں جو لڑائیاں ہوئی تھیں اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ جبرا- مسلمان بنانا چاہتے تھے بلکہ وہ لڑائیاں بھی دھاع کے طور پر تھیں۔ جب مسلمانوں کو سخت دکھ دیا گیا اور مکہ سے نکال دیا گیا اور بہت سے مسلمان شہید ہو چکے تب اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اسی رنگ میں ا ن کا مقابلہ کرو۔ پس وہ حفاطت خود اختیاری کے رنگ میں لڑائیاں کرنی پریں مگر اب وہ زمانہ نہیں ہے۔ ہر طرح سے امن اور آزادی ہے۔ ہاں اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں وہ قلم کے زریعہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قلم ہی کے ذریعہ ان کا جواب دیا جاوے۔ اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک مقام پر فرماتا ہے کہ جس قسم کی تیاریاں تمہارے مخالف کرتے ہیں تم بھی ویسی ہی تیاریاں کرو۔ اب کفار کی تیاریاں جو اسلام کے خلاف ہو رہی ہیں اُن کو دیکھو وہ کس قسم کی ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ فوخیں جمع کرتے ہوں۔ نہیں بلکہ وہ تو طرح طرح کی کتابیں اور رسالے شائع کرتے ہیں۔؎ٰ اس لیے ہمارا بھی فرض ہے