کرتے ہیں۔ جہاں تک ہو سکے مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کرو۔ یاد رکھو۔ شریعت کے دو ہی قسم کے حقوق ہیں۔ حقوق اﷲ اور حقوق العباد۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی بد قسمت نہ ہو تو حقوق اﷲ پر قائم ہونا سہل ہے اس لیے کہ وہ تم سے کھانے کو نہیں مانگتا اور کسی قسم کی ضرورت اسے نہیں وہ تو صرف یہی چاہتا ہے کہ تم اسے وحدہٗ لا شریک خدا سمجھو۔ اس کی صفات کاملہ پر ایمان لائو اور اس کے مرسلوں پر ایمان لا کر ان کی زتباع کرو۔ لیکن حقوق العباد میں آکر مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ جہاں نھس دھوکہ دیتا ہے۔ ایک بھائی کا حق ہے اور اس کے دبا لینے کا فتویٰ دیتا ہے۔ مقدمات ہوتے ہیں تو چاہتا ہے کہ سریک کو ایک حبہ نہ ملے سب کچھ مجھ ہی کو مل جاوے۔ غرض حقوق العباد میں بہت مشکلات ہیں۔ اس لیے جہاں تک ہو سکے اس کی بری رعایت اور حفاظت کرنی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ آدمی دوسرے کے حقوق تلف کرنے والا ٹھہرے اور یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے ملتاہے جس کے لیے دعا کی بڑی ضرورت ہے۔
جاپانیوں کے لیے ایک جامع کتاب کی ضرورت ہے
یہاں تک آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اور احباب تشریف لے آئے۔ حضرت حکیم الامت بھی آگئے۔ ا س لیے سلسلہ کلام بند کر دیا اور پھر آپ نے مکراً مسئلہ سود بینک کے متعلق فرمایاجو میں اوپر درج کر آیا ہوں۔ زاں بعد جاپان اور اشاعت اسلام کے مضمون پر سلسلہ کلام شروع ہو گیا۔ جس کا مفہوم درج ذیل ہے۔
(ایڈیٹر الحکم)
مجھے معلوم ہوا ہے کہ جاپانیوں کو اسلام کی طرف توجہ ہوئی ہے۔ اس لیی کوئی ایسی جامع کتاب ہو جس میں اسلام کی حقیقت پورے طور پر درج کر دی جاوے گویا اسلام کی پوری تصویر ہو جس طرح پر انسان سراپا بیان کرتا ہے اور سر سے لے کر پائوں تک کی تصویر کھینچ دیتا ہے۔؎ٰاسی طرح سے اس کتاب