نہیں اپنے عیش و آرام سے کام ہے۔ جو بات خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے میں اس کے بیان کرنے سے نہیں رک سکتا۔ اگر کسی کا ہمسایہ فاقہ میں ہو تو اس کے لیے شرعاً حج جائز نہیں۔ مقدم ہمدردی اور اس کی خبر گیری ہے کیونکہ حج کے اعمال بعد میں آتے ہیں مگر آجکل عبادات کی اصل غرض اور مقصد کو ہرگز مد نطر نہیں رکھا جاتا بلکہ عبادات کو رسوم کے رنگ میں ادا کیا جاتا ہے اور وہ نری رسمیں ہی رہ گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں حاجیوں کے متعلق بد ظنیاں پیدا ہوئی ہوئی ہیں۔کہتے ہیں ایک اندھی عورت بیٹھی تھی۔ کوئی شخص آیا تو اس کی چادر چھین کر لے گیا۔ وہ عورت چلائی کہ بچہ حاجیا! میری چادر دے جا۔ اس نے پوچھا کہ مائی تو یہ تو بتا کہ یہ کیونکر تجھے معلوم ہوا کہ میں حاجی ہوں۔ اس نے کہا تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے کام حاجی ہی کرتے ہیں۔ پس اگر ایسی ہی حالت ہو تو پھر ایسے حج سے کیا فائدہ؟
حج میں قبولیت ہو کیونکر جبکہ گردن پر بہت سے حقوق العباد ہوتے ہیں۔ ان کو تو ادا کرنا چاہیے۔ اﷲ تعالی ٰ فرماتا ہے
قد افلح من زکھا (الشمس : ۱۰)
فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ کے احکام کی عزت اور ادب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتی ہیں۔ انسان میں ہمدردی اعلیٰ درجہ کا جوہر ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
لن تنا لو االبر حتی تنفقو ا مما تحبون (ال عمران : ۹۳)
یعنی تم ہرگز ہرگز ان نیکی کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پیاری چیزون کو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔
یہ طریق اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے کا نہیں کہ مثلاً کسی ہندو کی گائے بیمار ہو جاوے اور وہ کہے کہ اچھا اس کو منس (راہ خدا پر دینا ) دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ باسی اور سری بسی روٹیاں جو کسی کام نہیں ئسکتی ہیں فقیروں کو دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے خیرات کر دی ہے۔ ایسی باتیں اﷲ تعالیٰ کو منظور نہیں اور نہ ایسی خیرات مقبول ہو سکتی ہے۔ وہ تو صاف طور پر کہتا ہے
لن تنالو االبر حتی تنفقو امما تحبون (ال عمران : ۹۳)
حقیقت میں کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اپنے پیارے مال اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی ہمدردی کے لیے خرچ نہ کرو۔
(اس موقعہ پر ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بعض فقیر بھی کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی باسی روٹی دیدو۔
پھٹا پرانا کپڑا دے دو۔ وہ مانگتے ہی پرانا اور باسی ہیں) فرمایا :
کیا تم نئی دے دو گے؟ وہ کیا کریں۔ جانتے ہیں کہ کوئی نئی نہیں دے گا۔ اس لیے وہ ایسا سوال