اسلام میں خرچ ہو۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے جہاد ہو رہا ہو اور گولی بارود کسی فاسق فاجر کے ہاں ہو۔ اس وقت محض اس خیال سے رک جانا کہ یہ گولی بارودمال حرام ؎ٰ ہے ٹھیک نہیں۔ بلکہ مناسب یہی ہوگ اکہ اس کو خرچ کیا جاوے۔ اس وقت تلوار کا جہاد تو باقی نہیں رہا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایسی گورنمنٹ دی ہے جس نے ہر ایک قسم کی مذہبی آزادی عطا کی ہے۔ اب قلم کا جہاد باقی ہے۔ اس لیے اشاعت اسلام میں ہم اس کو خرچ کر سکتے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی حالت فرمایا : مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔ ہر ایک قسم کی علمی اور عملی کمزوریاں ان میں آگئی ہیں۔ ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہیں۔ جرائم پیسہ کثرت کے ساتھ مسلمان ہیں۔ جیلخانوں میں جا کر دیکھو جس قدر شدید اور سنگین جرائم ہیں ان کے مرتکب مسلمان نظر آئیں گے۔ اب یہ کس قدر عار کی بات ہے۔ غرباء سے ہمدردی اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تلقین زکوٰۃ کیا ہے؟ تو خذ من الامر اء وتز د الی الفقراء امراء سے لے کر فقراء کو دی جاتی ہے۔ اس میں اعلیٰ درجہ کی ہمدردی سکھائی گئی تھی۔ اس طرح سے باہم گرم سرد ملنے سے مسلمان سنبھل جاتے ہیں۔ امراء پر یہ فرض ہیکہ وہ ادا کریں۔ اگر نہ بھی فرض ہوتی تو بھی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا کہ غرباء کی مدد کی جاوے۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمسایہ اگر فاقہ مرتا ہو تو پروا