عشق رکھتا ہے۔ایسا انسان خدا تعالیٰ کا چہرہ اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔خدا تعالیٰ طرح طرح سے اس کی مدد کرتا ہے اور اپنے انعامات اس پر نازل کرتا ہے ارو اس کو تسلی بخشتا ہے اور محبت اور وفا کا چہرہ دکھاتا ہے لیکن بے وفا غدار ہمیشہ محروم رہتا ہے۔؎ٰ ۲۱؍مئی ۱۹۰۴ء؁ بمقام گورداسپور طاعون اور الہام انہ اوی القریۃ بوقت ایک بجے بمقام کچہری گورداسپور درخت جامن کے نیچے بیٹھے ہوئے حکیم نور محمد صاحب نے ذکر کیا کہ ایک شخص نے مجھ سے دریافت کیا تھا کہ آپ لوگ احمدی جماعت کے جو یہ کہتے ہیں کہ طاعون سے ہم بچے رہیں گے اس کی وجہ کیا ہے؟ حکیم صاحب نے اس کے جواب میں جو کچھ اس نے تقریر کی تھی۔وہ سنائی پھر اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ : اﷲ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے وان من قریۃ الا نحن مھلکو ھا قبل یوم القیامۃ او معذبو ھا عذابا شدیدا (بنی اسرائیل : ۵۹) یعنی طاعون کا عذاب دو طرح پر ہوگا کوئی بستی اس سے خالی نہیں رہے گی۔بعض تو ایسی ہوں گی کہ جن کو ہم بالکل ہلاک کر دیں گے یعنی وہ اُجڑ کر بالکل گیر آباد ہو جائیں گی اور ویرانہ اور ٹھہ (اُجڑے ہوئے کھنڈرات) ہو جائیں گی۔اُن کا کوئی نشان بھی نہ رہے گا۔لوگ تلاش کرتے پھریں گے کہ اس جگہ فلاں بستی آباد تھی لیکن پھر بھی پتہ نہ ملے گا۔گویا طاعون وہاں جاروب دیکر اس کو دنیا سے صاف کر دے گی اور کوئی آثار اس کے نہ چھوڑے گی۔بعض قریئے ایسے ہوں گے کہ جن کو کم و بیش عذاب کر کے چھوڑ دیا جائے گا۔اور صفحہ دنیا سے اُن کا نام نہ مٹایا جائے گا۔صرف سرزنش کے طور پر کچھ عذاب اُن میں نازل کیا جائے گا اور تازیانہ کر کے عذاب ہٹالیا جائے گا۔دوسرے بہت سے شہر ھنا ہوں گے،مگر وہ فنا نہ ہوں گے۔اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے قادیان کو اسی قسم میں شامل کیا ہے۔اور اس الہام انہ اوی القریۃ سے مراد یہی ہے کہ اور بستیوں کی طرح ہمارے گائوں کو طاعون جارف بالکل تباہ نہ کرے گی کہ لوگ تلاش کرتے پھریں کہ کہاں قادیان واقع تھی۔اﷲ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ان بستیوں کی طرح خدا اس کو تباہ نہ کرے گا بلکہ یہ بچی رہے گی الا بطور تازیانہ کچھ سزا دے کر اُس کو بچا