اس پر فرمایا : ہمارا یہی مذہب ہے اور اﷲ تعالیٰ نے بھی ہامرے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے۔ اﷲ تعالیٰ کے قبضہ میں جو ثیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ حرمت اشیاء کی انسان کے لیے ہے نہ اﷲ تعالیٰ کے واسطے۔ پس سود اپنے نفس کے لیے، بیوی بچوں، احباب، رشتہ داروں اور ہسایوں کے لیے بالکل حرام ہے۔۲؎لیکن اگر یہ روپیہ خالصتاً اساعت دین کے لیی خرچ ہو تو حرج نہیں ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور پھر ا۲س پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکواۃ بھی نہیں دیتے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دو مصیبتیں واقع ہو رہی ہین اور دو حرمتیں روا رکھی گئی ہیں۔ اول یہ کہ زکوٰۃ جس کے دینے کا حکم تھا وہ دیتے نہیں اور سود جس کے لینے سے منع کیا تھا وہ لیتے ہیں۔ یعنی جو خدا تعالیٰ کا حق تھا وہ تو دیا نہیں اور جو اپنا حق ۳؎ نہ تھا اُسے لیا گیا۔ جب ایسی حالت ہو رہی ہے اور اسلام خطرناک ضعف میں مبتلا ہے تو میں یہی فتویا دیتا ہوں کہ ایسے سودوں کی رقمیں جو بینک سے ملتا ہے یک مشت اشاعت دین میں خرچ کرنی چاہئیں۔ میں نے جو فتویؓ دیا ہے وہ عام نہیں ہے ورنہ سود کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔ مگر اس ضعھ اسلام کے زمانہ میں جبکہ مالی ترقی کے ذریعے پیدا نہیں ہوئے اور مسلمان توجہ نہیں کرتے ایسا روپیہ اسلام کے کام میں لگانا حرام نہیں ہے۔ قرآن شریف کے مفہوم کے موافق جو حرمت ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اگر خرچ ہو تو حرام ہے۔ یہ بھی یاد رکھو جیسے سود اپنے لیے درست نہیں کسی اور کو اس کا دینا بھی درست نہیں۔ ہاں خد اتعالیٰ کے قبضہ میں ایسے مال کا دینا درست ہے اور یہی اس کا طریق ہے کہ وہ صرف اشاعت