ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم اس جگہ قادیان میں تھے کہ میر ناصر نواب صاحب کے گھر سے خط آیا کہ والدہ اسحاق فوت ہو گئی ہیں اور اسحاق بھی قریب المرگ ہے۔ یہ خط اسحاق کے بھائی کا لکھا ہوا تھا جو اس وقت بہت چھوٹی عمر کا تھا۔ میں اس خط کو پرھ کر بہت پریشان ہوا۔ کیونکہ اس وقت ہمارے گھر میں بیمار تھے۔ بخار چڑھا ہوا تھا۔ ایسی حالت میں اُن کو والدہ کی وفات کی خبر سنانا ہر گز مناسب نہ تھا۔ میں اسی فکر میں تھا کہ الہام ہوا ان کید کن عظیم جس سے میں نے سمجھ لیا کہ یہ صرف بلانے کا بہانہ ہے؛ ورنہ دراصل خیر ہے۔ اس وقت مولوی عبد الکریم صاحب اس جگہ تھے اُن کو سنایا گیا۔ اور حافظ حامد علی کو بھی سنایا گیا ارو اسی کو وہاں بھیجا گیا تو بات وہی نکلی جو خدا تعالیٰ نے بذریعہ الہام ہم کو بتلائی تھی۔ شیخ نور احمد صاحب نے عرض کی کہ اس دن میں بھی اسی جگہ تھا اور اس واقعہ کا گواہ ہوں۔؎ٰ قبل دوپہر بینکوں کا سود اشاعت اسلام کے لیے خرچ کرنا جائز ہے جب سے حضرت مولٰنا مولوی عبد الکریم صاحب کی طبیعت ناساز ہوئی ہے اور نیز اکثر احباب رخصت لے کر آئے ہیں۔ اعلیا حضرت کے معمول سا ہو گیا ہے کہ قبل دو پہر تشریف لا کر مسجد میں بیٹھتے ہیں اور مناسب موقعہ کلام فرماتے ہیں۔ ۱۴ ؍ستمبر کو شیخ نور احمد صاحب جالندھری چوہدی نصر اﷲ خاں صاحب پلیڈ رسیالکوٹ سے آئے ہوئے تھے۔ اور بھی کئی احباب بیرون جات سے آئے ہوئے تھے۔ شیخ نور احمد صاحب نے بینک کے سود کے متعلق تذکرہ کیا کہ بینک والے ضرور سود دیتے ہیں ؎ٰپھر اسے کیا کای جاوے؟