۱۳؍ستمبر ۱۹۰۵ء
اس زمانہ کے لوگوں کی حالت فرمایا :
اگر بعض لوگ خوش ہوتے یں کہ ہم نے دعا کی تھی تو بارش ہو گئی۔مگر اُن کی یہ دعائیں قابل قدر نہیں ہیں کیونکہ یہ صرھ مصیبت کے وقت کا رونا ہے اور مصیبت کے زرا ہٹنے کے بعد پھر وہی سخت دلی ا۲ن میں پائی جاتی ہے۔ اس بارش پر بھی خوس نہیں ہونا چاہیے۔ جو بات الہام الٰہی سے ہم کو معلوم ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ اس زمانہ کے لیے دن خیر کے نہیں ہیں اور یہ سچ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ان بلائوں کو نازل نہ کرے تو پھر دین کی خیر نہیں۔ تین قسم کے لوگ ہیں۔ خواصؔ۔اوسطؔ درجہ کے لوگ اور عوامؔ۔ خواص تو دہریہ مذہب بن رہے ہیں۔ ان کو دین کی کچھ پروا نہیں بلکہ دین پر ہنسی تھٹھا کرتے ہیں۔اوسط درجہ کے لوگ خواص کے تابع ہیں۔ عوام مثل وحشیوں کے ہیں۔ تمام دنیا کی حالت اس وقت بگڑی ہوئی ہے۔ مقدمہ والے ہیں تو جھوٹے گواہوں کے بنانے میں مصروف ہیں۔ زمیندار ہے تو شریعت کو چھور بیٹھا ہے۔ ملازم ہے تو اپنی ملازمت کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ تاجر ہیت و اپنی تجارت میں قسما قسم کے دھوکوں میں مصروف ہے۔ جبتک لوگ تقویٰ اختیار نہیں کریں گے خدا تعالیٰ ہرگز اُن پر راضی نہ ہوگا ارو نہ یہ بلائیں اُن کے سر سے ٹلیں گی۔؎ٰ
۱۶؍ستمبر ۱۹۰۵ء
حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے بارہ میں ایک دوست کا خواب
سیخ نور احمد صاحب جالندھر سے اور منشی نبی بخش صاحب کوئتہ سے حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ شیخ نور احمد صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا۔ کہ میں نے دیکھ اکہ مولوی عبد الکریم صاحب مسجد میں کھڑے ہیں