من الناس (المائدہ ۶۸)
اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر زمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہوگا۔ علاوہ ازیں فضیلت کا معاملہ اﷲ تعالیٰ کی کتاب سے ثابت ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب نے آنحضرت ﷺ کو سب سے افضل قرار دیا۔ اما م حسین نے یہ کہیں دعویٰ نہیں کیا کہ میں سب سے افضل ہوں۔ نہ ان کی کسی تحریر سے اور نہ کسی تقریر سے ایسی بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ تمام امت سے افضل ہیں۔ اور اگر ان کا کوئی ایسا دعویٰ ہوتا تب بھی ماننے کے قابل نہ تھا کیونکہ قرآن شریف کے برخلاف تھا۔ امام حسین کی شہادت سے بڑھ کر حضرت مولوی عبد الطیف صاحب کی شہادت ہے؛ جنہوں نے صدق اور وفا کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جن کا تعلق شدید بوجہ استقامت سبقت لے گیا تھا۔ اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ لوگوں کے مراتب اور درجات کیا ہیں۔ اسی نے مجھ یالہام کیا ہے
انی فضلتک علی العالمین۔
اگر سارا زمانہ ایک طرف ہو جاوے اور میں اکیلا ایک طرف رہ جائوں تب بھی خد اتعالیٰ کے الہام کے بالمقابل کسی کا کہانا مان نہیں سکتا۔ اگر امام حسین کو یہ وحی ہوئی تھی کہ وہ قیامت تک سب سے افضل ہیں تو دوسری وحی اسی خد انے اس کے برخلاھ مجھے کس طرح کردی۔ اگر یہ وحی شیطانی ہے تو دن رات خد اتعالیٰ کی تائید اور نصرت اس کے ساتھ کیوں ہے۔ عجب خدا ہے جو پچیس تیس سال سے مفتری کو مہلت دیتاہے بلکہ دن بدن اس کے سلسلہ کو ترقی دیتا ہے اور اس کے مخالفوں کو ہلاک کرتا ہے۔ اسی طرح سارے انبیاء کی صداقت پر شبہ پر سکتا ہے۔ افتراء اور کذب تو ایک مکروہ اور غیر طبعی امر ہے۔ انسان کب تک اس کو اختیار کر سکتا ہے۔ ہمارے دشمن تو ہمیشہ منتطر رہتے ہیں کہ یہ اب مارے گئے اور اب ہلاک ہوئے مگر ہر دفعہ ان کو ندامت اُٹھانی پرتی ہے۔ ہر طرح سے ایذاد یتے ہیں۔ قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ہمارے قتل کے جواز کے فتوے دیتے ہیں۔خون کے مقدمات بناتے ہیں مگر خدا تعالیٰ ہر امر میں بقول اُن کے کازب کی طرفداری کرتا ہے۔ ہماری دشمنی کے سبب ان کی شریعت بھی بدل گئی۔ خدا تعالیا جو صادق کا معاون ہوا کرتا تھا اب اُن کے نزدیک کاذب کا معاون ہونے لگا۔ یہ عداوت ان کو کشاں کشاں کہاں لے جائے گی۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ عناد اُن کو رفتہ رفتہ لالاہ الا اﷲ کے حلقہ سے باہر نکال دے گا۔ صادق کے لیے ایک امر مابہ الامتیاز ہوتا ہے اگر وہ نہیں تو انبیاء کی صداقت مشتبہ ہو جاتی ہے۔؎ٰ