نذیر حسین دہلوی۔ محمد حسین بھینی۔ مولوی محمد اسماعیل علیگڈھی رسل بابا امرتسری جس نے جلدی معجزہ دیکھنا ہو اُسے چاہیے کہ دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرے یا تو سخت مخالف بنے۔ یا محبت کا کمال تعلق پیدا کرے۔ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو تیری اہانت کرے گا اس کی میں اہانت کروں گا اور جو تیری اعانت کرے گا اس کی میں اعانت کروں گا۔ معمولی طور پر مخالفت کرنے والا اور اپنے کاروبار میں چلنے پھرنے والا ماخوذ نہیں ہوتا کیونکہ خد احلیم اور کریم ہے وہ اس طرح نہیں پکڑتا۔ کذب باری تعالیٰ کا مسئلہ بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ علی کل شئی قدیر (الاحقاف : ۳۴) اس واسطے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جھوٹ بولے۔ ایسا اعتقاد بے ادبی میں داخل ہے۔ ہر ایک امر جو خدا تعالیٰ کے وعدہ اس کی زات جلال اور صفات کے برخلاف ہے وہ اس کی طرف منسوب کرنا برا گناہ ہے۔ جو امر اس کی صفات کے برخلاف ہے اُن کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں۔ ادریس علیہ السلام کا آسمان پر جانا صدیق حسن خاں نے ادریسؑ کے آسمان پر جانے کی تکذیب کی ہے اور لکھ اہے کہ اگر وہ آسمان پر گیا تو ا سکی موت کس طرح سے ہوگی کیونکہ سب کا مرنا زمین پر ضروری ہے۔ تعجب ہے کہ مسیح کے معاملہ میں یہ بات اس کو سمجھ نہیں آئی۔ اگر خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو موت نہیں دی اور ویسے ہی آسمان پر اُٹھالیا ہے تو لفظ رفع کا قرآن شریف میں کافی تھا۔ رفع سے پہلے توفی کا لفظ لانے کی پھر کوئی ضرورت نہ تھی۔ آسمان پر جانے کا مفہوم تو لفظ رفع سے ہی پوری طرح نکل سکتا تھا۔ غالی اہل تشیع کے ایک عقیدہ کی تردید بعض اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ امام حسین آنحضرت ﷺ سے افضل ہیں اور اس پر دلیل یہ بیان کی جاتی ہے کہ امام حسین کو شہادت کا درجہ ملا جو آنحضرت ﷺ کو نہ ملا تھا۔ یہ ایک لط خیال ہے کیونکہ شہادت صرف امام حسین کو نصیب نہیں ہوئی بلکہ ہزارہا اصحاب کو ہوئی۔ اس میں سب برابر ہیں اور آنحضرت ﷺ کا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ واﷲ یعصمک