یہ شخص مرے اس دم تم توبہ کرو۔
انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے
آج کے الہام مسیر العرب کا ذکر تھا۔ فرمایا :
اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عرب میں چلنا۔ شاید مقدر ہو کہ ہم عرب جائیں۔ مدت ہوئی کہ کوئی پچیس چھبیس سال کا عرصہ گزرا ہے ایک دھعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک سخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اُس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔ انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے۔ لیکن بعض رؤیا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے زریعہ سے پورے ہوتے ہیں۔ مثلاً آنحضرت ﷺ کو قیصرو کسریٰ کی کنجیاں ملی تھیں تو وہ ممالک حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتح ہوئے۔؎ٰ
۱۲؍ستمبر ۱۹۰۵ء
الہام انی مھین من اراداھا نتک
آج کے الہام انی مھین من اراداھا نتک کا ذکر تھا۔ فرمایا :
بڑے بڑے مکفرین اور ایذاد ہندہ جو ہیں اُن کو خد اتعالیا ہمارے سامنے ہی اس زمین سے ناکام اُٹھا رہا ہے اور ان کی مرادوں کے برخلاف دن بدن اس سلسلہ کو ترقی دے رہا ہے۔ ابتداء میں جن لوگوں نے بہت زور سود سے مخالفت کا بیڑا اٹھایا تھا۔ اُن میں سے کوئی چودہ پندرہ ایسے یاد ہیں جو ہماری مخالفت کے معاملہ میںناکام مر چکے ہیں۔ اُن میں سے مولوی گلام دستگیر قصوری تھا جو مکہ سے کھر کا فتویٰ لایا تھا۔ نواب صدیق حسن خاں۔ لکھوکے کا مولوی محمد اور عبد الحی۔ رشید احمد گنگو ہی۔ لدھیانہ کے تین مولوی۔ سید احمد خاں جو کہتا تھا کہ ہماری تحریریں بے فائدہ ہیں۔ محمد عمر۔ مولوی ساہ دین لدھیانوی۔