جن لوگوں کو محبتِ الیہی ہوتی ہے وہ اس محبت کو چھپاتے ہیں جس سے اُن کے دل لبریز ہوتے ہیں بلکہ اس کے افشاء پر وہ شرمندہ ہوتے ہیں،کیونکہ محبت اور عشق ایک راز ہے جو خدا اور ا سکے بندے کے درماین ہوتا ہے اور ہمیشہ راز کا فاش ہونا شرمندگی کا موجب ہوتا ہے۔کوئی رسول نہیں آیا جس کا راز خدا تعالیٰ سے نہیں ہوتا۔اسی راز کو چھپناے کی خواہش اس کے اندر ہوتی ہے مگر معشوق خود اس کو فاش کرنے پر جبر کرتا ہے اور جس بات کو وہ نہیں چاہتے وہی اُن کو ملتی ہے جو چاہتے ہیں ان کو ملتا نہیں اور جو نہیں چاہتے وہی ان کو جبراًملتا ہے۔ جب تک انسان ادنیٰ حالت میں ہوت اہے اس کے خیالات بھی ادنیٰ ہی ہوتے ہیں اور جس قدر معرفت میں گرا ہوا ہوتا ہے اسی قدر محبت میں کمی ہوتی ہے۔معرفت سے حُسن ظن پیدا ہوتا ہے۔ہر شخص میں محبت اپنے ظن کی نسبت سے ہوتی ہے۔ انا عند ظن عبدی بی سے یہی تعلیم ملتی ہے۔صادق عاشق جو ہوتا ہے وہ اﷲ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ اس کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔خدا تعالیٰ تو وفاداری کرنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انسان صدق دکھلاوے اور اس پر ظن نیک رکھے کہ تا وہ بھی وفا دکھلائے مگر یہ لوگ کب اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔یہ تو اپنی ہوا و ہوس کے بتوں کے آگے جھکے رہتے ہیں اور ان کو نظر دنیا تک ہی ہوتی ہے۔اﷲ تعالیٰ کو کریم و رحیم نہیں سمجھتے۔اس کے وعدوں پر ذرہ ایمان نہیں رکھتے۔اگر اﷲ تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان رکھتے کہ وہ کریم و رحیم ہے تو وہ بھی اُن پر رحمت اور وفا کے ثبوت نازل کرتا ؎ گر وزیر از خدا بتر سیدے ہمچناں کز ملک ملک بودے اﷲ تعالیٰ سے بد ظنی مت کرو شر بدظنی سے پیدا ہوتا ہے۔قرآن شریھ کو اول سے آخر تک پڑھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے بدظنی مت کرو۔اﷲ تعالیٰ کا ساتھ نہ ثھوڑو۔اسی سے مدد مانگو۔اﷲ تعالیٰ ہر میدان میں مومن کی مدد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں میدان میں تیرے ساتھ ہوں وہ اس کے لیے ایک فرقان پید اکر دیتا ہے جو اس کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرتا وہ بدظنی کرتا ہے۔جو خدا تعالیٰ سے نیک طن کرتا ہے وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور جو اﷲ تعالیٰ سے بدظنی کرتا ہے‘ وہ مجبور ہتوا ہے کہ اپنے لیے کوئی دوسرا معبود بنائے اور شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔جب انسان اس بات کو سمجھتا ہے کہ خدا کریم و رحیم ہے اور بات پر ایمان صدق دل سے لاتا ہے کہ اس کے وعدے ٹلنے کے نہیں تو وہ اس پر جان فدا کرتا ہے اور دربردہ خدا تعالیٰ سے