اگر قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح کے فیصلہ کو یہ سب دھکے دیتے ہیں تو دیں۔ خدا تعالیٰ خود اُن سے مطالبہ اور محاسبہ کرے گا۔
نزولِ ایلیا
ایک اور عجیب بات ہے کہ جب ہم ایلیا کا قصہ پیش کرتے ہیں اور یہودیوں کا اعتراض سناتے ہیں جو حضرت مسیح پر اُنہوں نے کیا تو اور کچھ خجواب نہیں آتا تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ کتابیں محرف مبدل ہیں۔،مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ سہی۔ قومی تواتر اور تاریخ کو کیا کہو گے؟ وہ بھی تو کوئی چیز ہے اسے کیونکر رد کرو گے؟ اگر قومی تاریخ اور تواتر بھی رد کرنے کے قابل ہے تو پھر بڑے بڑے عظیم الشان بادشاہوں کے وجود پر کیا دلیل ہوگی؟ یقینا کوئی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قومی تواتر اور تاریخ کو ہم کبھی نہیں چھوڑ سکتے اور یہ مسئلہ نزول ایلیا کا ایسا ہے کہ یہودی اور عیسائی بالاتھاق اس کو مانتے ہیں۔ خود حضرت مسیح بھی اس پیسگوئی کے قائل تھے۔ اگر یہ پیشگوئی صحیح نہ تھی تو ان کو اس کی تاویل کرنے کی کیا حاجب تجھی؟ وہ سرے سے اس کا انکار ہی کر دیتے اور کہہ دیتے کہ یہ جو ملاکی نبی کی کتاب میں لکھا ہوا تم پیش کرتے ہو بالکل غلط ہے۔ مگر نہیں اُنہوں نے اس کو صحیح تسلیم کیا اور پھر ا سکی تاویل کی۔
یہودی تو یہانتک چلاتے ہیں کہ ایک یہودی کی کتاب میرے پاس ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر قیامت کو ہم سے موأخذہ ہوگا تو ہم ملاکی نبی کی کتاب کھول کر رکھ دیں گے۔
غرض نزول ایلیا کا مسئلہ برا صاف اور یقینی مسئلہ ہے اور خدو حضرت مسیح کی زبان سے فیصہ پا چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی آمد کا بھی ذکر کر دیا ہے مگر افسوس ہے لوگ سمجھتے ہوئے نہیں سمجھے مگر کب تک انکار کریں گے۔ آخر یہ سچائی روز روشن کی طرح کھل جائے گی اور قومیں اس طرف رجوع کریں گی اسی طرح جیسے مسیح ابن مریم کے لیے ہوا۔
توحید کا ایک ثبوت
اﷲ تعالیٰ کی توحید پر کوں تو ہزاروں دلائل ہیں لیکن ایک دلیل بری عام اور صاف ہے اور وہ یہ ہے کہ وضع عالم میں ایک کرویت واقع ہوئی ہے اور کرویت میں توحید ہی پائی جاتی ہے۔ پانی کا قطرہ لو تو وہ بھی گول ہے۔ زمین کی شکل بھی گول ہے۔ آگ کا شعلہ بھی گول ہی ہے۔ ایسا ہی ستارے بھی گول ہیں۔ اگر تثلیث درست ہوتی تو چاہیے تھا کہ ان اشیاء کی اشکال صُوَر بھی سہ گوشی اور مثلث نما ہوتیں اسی طرح پر اﷲ تعالیٰ نے آدم سے ایک سلسلہ سروع کیا اور آدم پر اُسے ختم کیا۔ چنانچہ مسیح موعود کا نام بھی آدم رکھا ہے چونکہ یہ آدم نئی قسم کا ہے اس لیے اس کے ساتھ شیطانی جنگ بھی نئے ہی قسم کی ہے۔؎ٰ