اس سے مراد یہود ہیں۔ پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس راہ کو یہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ ایک ہی رنگ کا مقدمہ جب کہ ایک پیغمبر کے حضور فیصلہ ہو ثکا ہے۔ اب اس ھیصلہ کے خلاف مسیح کو خود آسمان سے یہ کیوں اتارتے ہیں؟ آپ ہی مسیح نے ایلیا کے مقدمہ کا فیصلہ کیا اور ثابت کر دیا کہ دوبارہ آمد سے بروزی آمد مراد ہوتی ہے اور ایلیا کے رنگ میں یحییٰ آیا۔ مگر اب یہ مسلمان اس نظیر کے ہوتے ہوئے بھی اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جبتک خود مسیح کو آسمان سے نہ اتارلیں۔لیکن میں کہتا ہوں کہ تم اور تمہارے سب معاود مل کر دعائیں کرو کہ مسیح آسمان سے اُتر آوے پھر دیکھ لو کہ وہ ا۲ترتا ہے یا نہیں۔ میں یقینا کہتا ہوں کہ اگر ساری عمر ٹکریں مارتے رہو اور ایسی دعائیں کرتے کرتے ناک بھی رگڑے جاویں تب بھی وہ آسمان سے نہیں آئے گا، کیونکہ آنے والا تو آثکا۔
پھر میں کہتا ہوں کہ یہی وقت تو ہے جو اُسے آسمان سے اُتر نا چاہیے اگر اُترنا ہے کیونکہ تمہارے خیال میں ایک مفتری اور کاذب مدعی مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اگرفی الواقعہ یہی سچ ہے کہ مسیح نے آسمان سے آنا ہے تو چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ اب اُسے اُتارے تا کہ دنیا گمراہ نہ ہو کیونکہ ایک کثیر جماعت تو مجھے مسیح موعود تسلیم کر چکی ہے۔ اگر اس وقت وہ نہ آیا تو پھر کب آئے گا؟ کیا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کازبوں اور مفتریوں کی مدد کرے؟ اگر ایسا کبھی ہوا ہے تو نطیر پیش کرو اور پھر بتائو کہ راستبازوں کی سچائی کا کیا معیار ہے؟
مسئلہ وفات مسیح میں کون حق پر ہے
اس مقدمہ میں خوب گور کر کے دیکھ لو کہ حق پر کون ہے؟ عقل اور فراست ہمارے ساتھ ہے اور پھر آنحضرت ﷺ بھی ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ آپﷺ نے معراج کی رات حضرت مسیح کو مردوں میں دیکھا۔ پھر صحابہ کا اجماع مسیح کی وفات پر ہو چکا ہے۔ قرآن شریف میری تائید کرتا ہے اور اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے خاص تائیدات سماویہ سے میرے دعویٰ کو سچا کیا۔ ہزاروں ارضی اور سماوی نشان میری سچائی کے ظاہر کئے۔ اس قدر شواہد اور دلائل کے ہوتے ہوئے میں کیونکر تسلیم کر لوں کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں صحیح ہے جبکہ خدا تعالیا کی کھلی کھلی وحی مجھے مسیح موعود ٹھہراتی ہے۔ پھر میں ملانوں کی بات مانوں یا خدا تعالیا کی وحی پر ایمان لائوں؟ میں سث سث کہتا ہوں کہ خد اتعالیٰ کی وحی کو میں ہرگز نہیں چھور سکتا خواہ ساری دنیا میری دشمن ہو جاوے اور ایک بھی شخص میرے ساتھ نہ ہو۔ میں خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ کلام کو کیونکر جھٹلا سکتا ہوں۔ پھر اسیی حالت میں کہ اس کی روشن تائیدیں میرے ساتھ ہیں۔