کے صحیفہ کی بنا پر کہا کہ مسیح کے آنے کی یہ نشانی ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے آوے۔ مسیح ؑسے جب انہوں نے یہی سوال کیا تو انہوں نے اس پیشگوئی کو تو تسلیم کر لیا لیکن یہ فیصلہ کر لیا کہ آنے والے ایلیا سے مراد یحییٰ ہے۔ یہودی اس فیصلہ کو سن کر یحییٰ کے پاس پہنچے۔ وہ اس مباحثہ سے بکلی بے خبر اور ناواقف تھے۔ انہوں نے ایلیا ہونے سے انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہودیوں کو مخالفت اور بھی تیز ہو گئی اور انہوں نے اصل حقیقت سے بے خبر رہ کر ظاہر الفاظ پر زور دیا اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کے ایک سچے نبی کا انکار کر دیا۔ نہ صرف انکار کای بلکہ ہر طرح سے اس کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کی اور آخر خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک مغضوب اور لعنتی قوم ٹھہر گئے۔
اب گور کرو اگر ایلیاء کا آنا درست تھا اور حضرت یحییٰ کی شکل میں ایلیا کا بروزی رنگ میں آنا درست نہیں تو ہمارے مخالف مسلمان بتائیں کہ ملاکی نبی کے صحیفہ کی پیشگوئی کو مد نظر رکھ کر حضرت عیسیٰ کی نبوت کا کیا ثبوت ہے؟ پھر یقینا وہ نبوت ثابت نہیں ہو سکتی اور دوسری مشکل یہ پڑتی ہے کہ حضرت عیسیٰ جو مردوں کو زندہ کرنے والے تھے کیوں انہوں نے ایلیا کو زندہ نہ کر لیا؟ اس سے دو باتیں اور بھی ثابت ہو گئیں۔ اول یہ کہ اﷲ تعالیٰ کی یہ عادت اور سنت نہیں کہ وہ مردوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجے اور زندہ کرے۔ دوسری یہ کہ مسیح نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا۔ پس خوب گور کرو اگر بروزی آمد ایلیا کی مراد نہ ہوگی تو مسیح کی نبوت جاری رہے گی اور پھر اس کی زد اسلام اور قرآن شریف پر پڑے گی۔
آنے والا مسیح آچکا ہے
اس وقت مسیح کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر دوسری وجوہ اور ضروریات کو چھوڑ دیا جاوے تو سلسلہ مماثلت موسوی کے لفاظ سے بھی سخت ضرورت ہے۔ اس لیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے۔ غرض میں تو بروز کی ایک نظیر پیش کرتا ہوں، لیکن جو یہ کہتے ہیں کہ نہیں خود حضرت مسیح ہی دوبارہ آئیں گے انہیں بھی تو کوئی نظیر پیش کرنی چاہیے اور اگر وہ نہیں کر سکتے اور یقینا نہیں کر سکتے تو پھر کیوں ایسی بات کرتے ہیں جو محدثات میں داخل ہے۔ محدثات سے پرہیز کرو۔ کیونکہ وہ ہلاکت کی راہ ہے۔ یہدیوں پر غضب الٰہی اسی وجہ سے نازل ہوا کہ انہوں نے استعارہ کو حقیقت پر حمل کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مغضوب قوم ٹھہر گئی۔ ا سکا ہم شکل مقدمہ اب بھی پیش ہے۔ مجھے مسلمانوں کی حالت پر افسوس آتا ہے کہ ان کے سامنے یہودیوں کیایک نظیر پہلے سے موجود ہے اور پانچ وقت یہ اپنی نمازوں میں
غیر المغضوب علیہم (الفاتحہ : ۷)
کی دعا کرتے ہیں اور یہ بھی بالاتفاق مانتے ہیں کہ