اور اس کی وراء الوراء طاقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ پھر اس کے دل پر کوئی ہم و غم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔اسی لیے دوسرے مقام پر آیا ہے
لا خوھ علیہم ولا ھم یحنون (البقرۃ : ۶۳)
اگر کوئی ہم و غم اپنے الہام سے اس کے لیے خارجی اسباب اُن کے دور کرنے کے پیدا کر دیتا ہے۔ یا خارق عادت صبر اُن کو عطا کرتا ہے۔؎ٰ
آنحضرت ﷺ کا مقام دنا فتدلی
دنا فتدلی (النجم : ۹)
آنحضرت ﷺ کی شان میں آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی طرھ ہو کر نوع انسان کی طرھ جھکا۔ آنحضرت ﷺ کا کمال اعلیا درجہ کا کمال ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور اس کمال میں آپﷺ کے دو درجے بیان فرمائے ہیں۔ ایک صعود، دوسرا نزول۔ اﷲ تعالیٰ کی طرف تو آپﷺ کا صعود ہوا یعنی خدا تعالیٰ کی محبت اور صدق و وھا میں ایسے کھینچے گئے کہ خود اس زات اقدس کے دنو کا درجہ آپﷺ کو عطا ہوا۔ دنو ۔ اقرب سے ابلغ ہے۔ اس لیے یہاں یہ لفظ اختیار کیا۔ جب اﷲ تعالیٰ کے فیوضات اور برکات سے آپ نے حصہ لیا تو پھر بنی نوع پر رحمت کے لیے نزول فرمایا۔ یہ وہی رحمت تھی جس کا اشارہ
ما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء : ۱۰۸)
میں فرمایا ہے۔
ٔآنحضرت ﷺ کے اسم قاسم کا بھی یہی سر ہے کہ آپ اﷲ تعالیٰ سے لیتے ہیں اور پھر مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔ پس مخلوق کو پہنچانے کے واسطے آپ کا نزول ہوا۔ اس دنا فتدلی میں اسی صعود اور نزول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کے علو مرتبہ کی دلیل ہے۔۲؎
پیشگوئیوں میں استعارات
انبیاء علیہم السلام کے آنے کے وقت دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو استعارات کو حقیقت پر محلول کر لیتے ہیں اور حقیقت کو استعارہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ گروہ اس کی سناخت سے محروم رہ جاتا ہے۔لیکن ایک اور گروہ ہوتا ہے جو اﷲ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید سے اصل حقیقت کو پالیتے ہیں۔ وہ استعارہ کو استعارہ اور حقیقت کو حقیقت ٹھہراتے ہیں۔ جیسے یہودیوں نے مسیح کی آمد کے وقت ملا کی نبی