مسیح علیہ السلام کے بارہ میں قتل و صلیب کی نفی کسی شخص نے اعتراض کیا کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے وما قتلوہ وما صلبوہ (النسأء : ۱۵۸) نہ قتل کیا اور نہ صلیب دیا۔ اس میں قتل کا ذکر پہلے ہے اور صلیب کا پیچھے؛ حالانکہ پہلے کسی کو صلیب پر چڑھایا جاتا ہے اور بعد میں صلیب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قتل ہو جائے۔ برخلاف اس کے قرآن شریف میں قتل کا ذکر پہلے ہے اور صلیب کا پیچھے ہے۔ فرمایا :۔ اول تو یہود کا اعتراض جو قرآن شریف میں درج ہے وہ یہی ہے کہ انا قتلنا المسیح (النساء : ۱۵۸) یعنی ہم نے مسیح کو قتل کیا۔ چونکہ انہوں نے قتل کا لفظ بولا تھا۔ اس واسطے اﷲ تعالیٰ نے پہلے لفظ قتل کی ہی نھی کی۔ دوم یہ کہ یہود میں دور دایتیں تھیں۔ ایک یہ کہ ہم نے یسوع کو تلوار سے قتل کر دیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اس کو صلیب پر مارا ہے۔پس اﷲ تعالیٰ نے ہر دو کی جدا جدا نفی کی۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہودیوں کی بعض پرانی کتب میں یہ بھی لکھا ہیکہ یسوع کو پہلے سنگسار کیا گیا تھا اور جب وہ مرگیا تو بعد میں اس کو کاٹھ پر لٹکایا گیا یعنی پہلے قتل ہوا اور پیچھے صلیب۔ پس اﷲ تعالیٰ نے ان دونوں کی نفی کی اور فرمایا کہ یہود جھوٹے ہیں۔ نہ حضرت مسیح اُن کے ہاتھوں قتل ہوئے اور نہ صلیب کے ذریعے سے مارے گئے۔ اسلام کی صداقت پر ایک بھاری دلیل فرمایا : خدا تعالیٰ کے صھات کا جو کامل اکمل نڈشہ اسلام نے پیش کیا ہے وہ اسلام کی صداقت پر ایک بڑی بھاری دلیل ہے۔ باقی تمام مذاہب اس معاملہ میں ناقص ہیں کہ وہ خدائی صھات کا سروپاپوری طرح بیان کر سکیں اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی تمام مذاہب خدا تعالیٰ کی کام ل طاقتوں کے صھات سے منکر ہیں’ مثلاً آرییہ کہتا ہیں کہ وہ کلام نہیں کرتا۔ چپ ہے۔ عیسائیوں کا بھی یہی مذہب ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ کسی کو نتاج دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کی تعریف کرے اور کہے کہ وہ ایسا خوبصورت ہے اور ایسا طاقتور ہے مگر بہرہ ہے۔ سن نہیں سکتا اور گنگا ہے کچھ بولتا نہیں۔ چڑ چڑا ہے۔ ہم کو نجات دینا نہیں ثاہتا۔ بہشت میں بھیجتا ہے تو بھیا یک گناہ باقی رکھ لیتا ہے جس سے پھر جلد سانپ، بچھو، کتے، سؤر کی جون میں ڈال دیتا ہے۔ ان دینوں میں یہ برکت نہین کہ انسان پاکیزگی حاصل کرکے خدا سے انا الموجود کی آواز کوئی سن سکے۔ اسی واسطے یہ لوگ غفلت کی تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔ مجاہدہ کی اہمیت فرمایا : جو لوگ خدا کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں۔ سچی توبہ کے ساتھ اس کے آگے