جھک جاتے ہیں اُن کو خدا مل جاتا ہے۔ مگر جو لوگ اس کے بتلائے ہوئے راہ پر نہیں چلتے اور اس میں محنت نہیں کرتے ا۲ن کے واسطے مشکل ہے کہ وہ اس بات کو پاسکیں۔ ایسے لوگوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک باپ نے اپنے بیٹوں کووصیت کی کہ ھلاں مقام میں ایک خزانہ دھن ہے اور وہ زمین کے اندر اتنے ہاتھ گہرائی پر ہے۔ جبتک اسکو کھودنے کی محنت نہ کی جاوے وہ کس طرح اُن کو مل سکتا۔؎ٰ
۳۱؍اگست ۱۹۰۵ء
ایک رویاء اور اس کی تعبیر
۳۱؍اگست کی رات کو میں نے دیکھا کہ عبد اﷲ سنوری میرے پاس آیا ہے اور وہ ایک کاغذ پیش کرکے کہتا ہے کہ اس کا غذ پر میں نے حاکم سے دستخط کرانا ہے اور جلدی جانا ہے۔ میری عورت سخت بیمار ہے اور کوئی مجھے پوچھتا نہیں۔ دستخط نہیں ہوتے۔ اس وقت میں نے عبد اﷲ کے چہرہ کی طرف دیکھا تو زرد رنگ اور سخت گھبراہٹ اس کے چہرہ پر تپک رہی ہے میں نے اس کو کہا کہ یہ لوگ روکھے ہوتے ہیں۔ نہ کسی کی سفارش مانیں اور نہ کسی کی شفاعت۔ میں تیرا کاغذ لے جاتا ہوں۔ آگے جب کاغذ لے کر گیا تو کیا دیکھتا ہون کہ ایک شخص متھن لال نام جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں اکسڑااسسٹنٹ تھا کرسی پر بیٹھا ہوا کثھ کام کر رہا ہے اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جاکر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ ایک میرا دوست ہے اور پرانا دوست ہے اور واقف ہے اس پر دستخط کر دو۔ اُس نے بلاتامل اسی وقت لیکر دستخط کردیئے۔ پھر میں نے واپس آکر وہ کاغذ ایک شخص کود یا اور کہا خبردار ہوس سے پکڑو ابھی دستخط گیلے ہیں اور پوچھا کہ عبد اﷲ کہاں ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ کہیں باہر گیا ہے۔ بعد اس کے آنکھ کُھل گئی اور ساتھ پھرغنودگی کی حالت ہو گئی۔ تب میں نے دیکھ اکہ اس وقت میں کہتا ہوں۔ مقبول کو بلائو اس کے کاغذ پر دستخط ہو گئے ہیں۔
یہ جو مٹفن لال دیکھا گیا ہے۔ ملائک طرح طرح کے تمثلات اختیار کر لیا کرتے ہیں۔ مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔ سنوری سے یہ مراد ہے۔ سنور عربی میں بلی کو کہتے ہیں اور تعبیر کی رو سے بلی ایک بیماری کا نمونہ ہے۔ عبد اﷲ سنوری سے مراد ہوئی وہ عبد اﷲ جو بیمار ہے۔
فرمایا :
طِب تو ظاہری محکمہ ہے۔ ایک اس کے دراء محکمہ پردہ میں ہے جبتک وہاں دستخط نہ ہو۔ کچھ نہیں ہوتا۔۲؎