اونٹ پر جس قدر بوجھ چاہو۔ لاد دو۔ فرمایا : قوی القلب آدمی ہو۔ تو یہی نہیں کہ وہ مخالفوں کے شور و شر سے امن پاتا ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ اس میں جذب اور کشش رکھ دیتا ہے۔ (الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ صفحہ ۶،۷ مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۵ء؁) ۲۶؍اگست ۱۹۰۵ء؁ آج نماز ظہر میں مسجد مبارک میں قبل از نماز ذکر آیا کہ جاپان میں اسلام کی طرف رغبت معلوم ہوتی ہے اور بعض ہندی مسلمانوں نے وہان جانے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر فرمایا : جاپان میں اسلام کی تبلیغ جن کے اندر خود ہی اسلام کی روح نہیں وہ دوسروں کو کیا ھائدہ پہنچائیں گے ۔جب یہ قائل ہیں کہ اب اسلام میں کوئی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ خدا اس سے کلام کرے اور وحی کا سلسلہ بند ہے تو یہ ایک مردہ مذہب کے ساتھ دوسرے پر کیا اثر ڈالیںگے۔ یہ لوگ صرف اپنے پر ظلم نہیں کرتے بلکہ دوسروں پر بھی ظلم کرتے ہیں کہ اُن کو اپنے بدعقائد اور خراب اعمال دکھا کر اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ اُن کے پاس کونسا ہتھیار ہے جس سے یہ غیر مذاہب کو فتح کرنا چاہتے ہیں۔ جاپانیوں کو عمدہ مذہب کی تلاش ہے۔ اُن کی بوسیدہ اور ردی متاع کو کون لے گا۔ چاہیے کہ اس جماعت میں سے ثند آدمی اس کام کے واسطے تیار کیے جائیں جو لیاقت اور جرأت والے ہوں اور تقریر کرنے کا مادہ رکھتے ہوں؎ٰ بدر جلد ا نمبر ۲۱ صفحہ ۲ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۵ء؁ ۱۹؍اگست ۱۹۰۵ء؁ ایک شخص نے اپنا خواب عرض کیا کہ فلاں آدمی نے مجھے خواب میں ایسا کہا۔ فرمایا : خواب کا تعین ہمیشہ صحیح نہیں ہوتا۔بعض دفعہ جس کو خواب میں دیکھا جاتا ہے اس سے مراد کوئی اور شخص ہوتا ہے۔