میں روئی دے دو گے تو ہرگز نہیں سن سکتے۔ یا آفتاب اور ماہتاب کے نور سے بھاگ کر کسی تہہ خانہ میں چھپ جائو تو روسنی کیونکر آسکے گی؟ ہر چز کے حصول کے لیے ایک قانون ہوتا ہے۔ اگر کوئی اس قانون کو چھوڑ کر اور اس سے منحرف ہو کر اُسے حاصل کرنا چاہے تو حاصل نہیں کر سکتا۔ مثلاً آنکھ۔ کان میں جو قوتیں ہیں اگر اُن سے کام نہ لے تو اثر نہیں رہتا۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ انسان اول اپنے دل کو پاک کرے اور نفسانی خواہشوں کی مخالفت کرے۔ اس سے درمیانی گردوغبار اُٹھ جائے گا اور ثابت ہو جائیگاکہ اﷲ تعالیٰ سنتا بھی ہے اور بولتا بھی ہے۔ جو لوگ عارف ہوتے ہیں، اُن پر یہ باتیں کھل جاتی ہیں وہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کی صفات کو مشاہدہ کرتے ہیں۔ جو شخص ان صفات کو دیکھتا نہیں وہ صرف طوطے کی طرح رٹتا ہے۔آریوں نے جو صفائی کی ہے وہ تو پہلے سے بھی گیا گذرا والا معاملہ ہوا ہے۔ اگر انصاف سے دیکھا جاوے تو زبانی لاف وگزاف کچھ نہیں کرسکتی۔ میں یقینا کہتا ہوں کہ ان لوگوں کے سارے دعوے باطل ہیں اس لیے کہ اُن کو رؤیت کی توفیق نہیں ملی ہے۔ جس پر اس جہان کی کھرکی نہیں کھلی وہ کیا دیکھے گا؟ پنڈت دیانند نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ نری اٹکل ہے۔ جیسا ایک اندھا کسی کو ہاتھ لگا کر اس کے متعلق بیان کرتا ہے، اسی طرح سے اُنہوں نے کیا ہے۔ محض اپنے مذہب کے تعصب کی جہالت سے کہا جو کچھ کہا۔ اس کی وہ آنکھیں نہیں تھیں جو وہ اس عالم کے عجائبات کو مشاہدہ کرتا۔ اس کو بالکل خبر نہیں کہ خدا کیا ہے اور اس کی صفات کیا ہیں۔ یہ بھی یاد رکھو کہ جس چیز کے صفات دور ہو جائیں تو وہ چز بھی جاتی رہتی ہے۔پھول کی صورت نوعی بھی جاتی رہے گی، جب اس کے خواص اور صفات نہ ہوں۔ اسی طرح پر آریوں کے قول کے بموجب پرمیشر ہی کا وجود نہیں رہتا جبکہ یہ مان لیا جاوے کہ اس کے صفات نہیں کونکہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی سے بولتا بھی ہے جب بولتا نہیں تو سننے پر کیا دلیل ہوگی۔ اسی طرح قدرت بھی باطل ہوئی۔ خدا تعالیٰ کے صفات قدیم سے چلے آتے ہیں۔ جب ایک صفت باطل ہوئی تو ممکن ہے کوئی دوسری بھی باطل ہو جاوے۔ سچا مذہب وہی ہے جو زندہ خدا کو پیش کرے اور وہ اسلام ہے۔ ہمارے مخالف اسلام کا اقرار کرتے ہیں مگر افسوس ہے کہ وہ اسلام کی اس قابل قدر خوبی سے انکار کرتے ہیں۔ جب سے اسلام ہوا ہے اس میں ہمیشہ عملی نمونے رہے ہیں لیکن وہ انکار کرتے ہیں کہ اب نہیں۔ افسوس۔ فرمایا: ایک اور بڑی خرابی ہوتی ہے کہ انسان میں علم ہو سمجھ ہو۔ پھر دنیا کے خیال اس پر گالب ہو جائیں تو اس طرح پر دینی سرگرمی نہیں رہتی وہ مردہ یا منافق ہو جات اہے اس لیے اس جماعت میں ملنے والا تو وہ ہوگا جو ہر قسم کے مصائب اور شدائد کا نشانہ بننے کو آمادہ ہو ۔ لیکن محبت ہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ جیسے ایک مست