کہ میری طبیعت اس طرح واقع ہوئی ہے کہ شہرت اور جماعت سے کوسوں بھاگتی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ کس طرح شہرت کی آرزو رکھتے ہیں۔میری طبیعت اور طرف جاتی تھی لیکن خدا تعالیٰ مجھے اور طرف لے جاتا تھا۔میں نے بار بار دعائیں کیں کہ مجھے گوشہ میں ہی رہنے دیا جاوے۔مجھے میری خلوت کے جھرے میں ہی چھوڑ دیا جائے۔لیکن بار بار حکم ہوا کہ اس سے نکلو اور دین کا کام جو اس وقت سخت مصیبت کی حالت میں تھا، اس کو سنوارو۔انبیاء کی طبیعت اسی طرح واقع ہوتی ہے کہ وہ شہرت کی خواہش نہیں کیا کرتے کسی نبی نے کبھی شہرت کی خواہش نہیں کی۔ہمارے نبی کریم ﷺ بھی خلوت اور تنہائی کو ہی پسند کرتے تھے۔آپ عبادت کرنے کے لیے لوگوں سے دور تنہائی کی غار میں جو غارِ حرا تھی چلے جاتے تھے۔یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی انسان اس میں جانے کی جرأت نہ کر سکتا تھا۔لیکن آپ نے اس کو اس لیے پسند کیا ہوا تھا کہ وہاں کوئی ڈر کے مارے بھی نہ پہنچے گا۔آپ بالکل تنہائی چاہتا تھے۔شہرت کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کا حکم ہوا۔ یا یھا المدثر قم فانذر (المدثر : ۲ -۳) اس حکم میں ایک جبر معلومہوتا ہے اور اسی لیے جبر سے حکم دیا گیا کہ آپ تنہائی کو جو آپ کو بہت پسند تھی اب چھوڑدیں۔بعض لوگ بیوقوفی اور حماقت سے یہی خیال کرتے ہیں کہ گویا میں شہرت پسند ہوں۔میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ میں ہرگزشہرت پسند نہیں۔خدا تعالیٰ نے جبر سے مجھ کو مامور کیا ہے۔میرا اس مٰں قصور کیا ہے اور وہی گواہ ہے کہ میں شہرت پسند نہیں ہوں۔میں تو دنیا سے ہزاروں کوس بھاگتا تھا۔حاسد لوگوں کی نظر چونکہ زمین اور اس کی اسیاء تک ہی محدود ہوتی ہے اور وہ دنیا کے کیڑے ہیں اور شہرت پسند ہوتے ہیں۔ان کو اس خلوت گزینی اور بے تعلقی کی کیفیت ہی معلوم نہیں ہوسکی۔ہم تو دنیا کو نہیں چاہتے۔اگر وہ چاہیں اور اس پر قدرت رکھتے ہیں تو سب دنیا لے جائیں ہمیں ان پر کوئی گلہ نہیں۔ہمارا ایمان تو ہمارے دل میں ہے نہ دنیا کے ساتھ۔ہماری خلوت کی ایک ساعت ایسی قیمتی ہے کہ ساری دنیا اس ایک ساعت پر قربان کرنا چاہیے۔اس طبیعت اور کیفیت کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔مگر ہم نے خدا تعالیٰ کے امر پر جان و مال و آبرو کو قربان کر دیا ہے۔جب اﷲ تعالیٰ کسی کے دل میں تجلی کرتا ہے تو ھپر وہ پوشیدہ نہیں رہتا۔عاشق اپنے عشق کو خواہ کیسی ہی پوشیدہ کرے، مگر بھید پانے والے وار تاڑنے اولے قرائن اور آثار اور حالات سے پہچان ہی جاتے ہیں۔عاشق پروحشت کی حالت نازل ہوجاتی ہے۔اُداسی اُس کے سارے وجود پر چھا جاتی ہے۔الگ قسم کے خیالات اور حالات اس کے ظاہر ہو جاتے ہیں۔وہ اگر ہزاروں پردوں میں چھپے اور اپنے آپ کو چھپالے مگر چھپا نہیں رہتا۔سچ کہا ہے ؎ عشق و مشک رانتواں نہفتن