اسلام پیش کرتا ہے جو اس کے اور اس کے غیروں میں مابہ الامتیاز ہے اُسے کوئی چرا نہیں سکتا۔ یہ بات ہے جو ہم پیش کرتے ہیں کہ خدا تعالیا موجود ہے اور اُس کے امتیازی نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام کے ثمرات اب بھی ایسے ہی ہین’ اگر کوئی ان پھلوں کو نہیں کھاتا تو اسلام کا کیا قصور؟ طبیب اگر ایک نسخہ بتادے اور کوئی اسے استعمال نہ کرے تو اس میں طبیب کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ اسلام میں یہ ایسی نعمت ہے جو کسی اور دین میں نہیں مل سکتی۔ اسی کی طرف اشارہ کرکے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (المائدۃ : ۴) لیکن یہ نعمت نہیں مل سکتی جبتک اس طرف قدم نہ اُٹھاوے۔ اور افسوس کہ ہمارے مخالف اس نعمت کی طرف متوجہ نہیں۔؎ٰ ۱۴؍اگست ۱۹۰۵ء؁ دربار شام اُولوالامر کون ہے شیخ عبد الحق صاحب آریہ نو مسلم نے اجازت چاہی۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کچھ دن اور رہو۔ دین کی تپش اور تلاش انسان کو مقدم ہونی چاہیے۔ اس پر انہوں نے ذیل کا سوال کیا اس کا جو جواب حضرت اقدس نے دیا وہ بھی درج ہے: سوال : اولوالامر سے کیا مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک مولوی اولوالامر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ کوئی نہیں۔ جواب از حضرت اقدس: اصل بات یہ ہے کہ اسلام میں اس طرح پر چلا آیا ہے کہ اسلام کے بادشاہ جن کے ہاتھ میں عنان حکومت ہے ان کی اطاعت کرنی چاہیے وہ بھی ایک قسم کے اولوالامر ہوتے ہیں۔ لیکن اصل اولوالامر وہی ہوتے ہیں جن کی زندگی پاک ہوتی ہے اور ایک بصیرت اور معرفت جن کو ملتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے امر پاتے ہیں۔ یعنی مامور الٰہی۔ بادشاہوں کے پاس حکومت ہوتی ہے وہ انتظامی امور میں تو پورا دخل رکھتے ہیں لیکن دینی امور کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔ سچے اولوالامر وہی ہین جن کے اتباع سے معرفت کی آنکھ ملتی ہے اور انسان معصیت سے دور ہوتا ہے۔ ان دونوں باتوں کا لحاظ اولوالامر میں رکھو۔ اگر کوئی شخص بادشاہ وقت کی بگاوت کرے تو اس کا نتیجہ