ہیں نہ سن سکتے ہیں۔میرا ایمان یہی ہے کہ نوح علیہ السلام کا طوفان جو آیا اس طوفان سے پہلے ایک طوفان خود نوح پا بھی آیا۔ تب وہ طوفان آیا جس نے لوگوں کو غرق کیا۔ اسی طرح پر موسیٰ ؑنے ایک سخت مصیبت دیکھی جو لوگوں کی نظر سے مستوری تھی مگر وہ ایسی مصیبت تھی کہ اُسے اُن کا ہی دل برداشت کر سکتا تھا اور ایسی بھاری مصیبت تھی جس نے یہ نمونہ غرق دکھایا۔ نوح ؑ کا غم خیال کرو کہا نتک پہنچا ہوگا جو خدا تعالیٰ کا غضب اس طرح پر بھرکا۔
یقینا سمجھو کہ یہ قوم ایک عجیب قوم ہوتی ہے۔ لوگوں کے ہم و غم اپنے گھر کے دائرہ کے اندر ہوتے ہیں۔ بیوی بچوں کا غم ہوا یا اپنی عزت و دولت کے لیے۔ اور اسی لیے خدا تعالیٰ ان کی پروا نہیں کرتا، لیکن اس قوم کے غموں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف مخلوق کی ہمدردی انہیں ہم و غم میں مبتلا کرتی ہے۔ دوسری طرف اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور شان بلند کرنے کے لیے کڑھتے ہیں اور یہ بات تکلف یا بناوٹ سے پیدا نیں ہوتی۔ ان کی فطرت ہی اس قسم کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس قوم کو اس رنگ میں گویا آگ لگی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اﷲ تعالیٰ گوارا نہیں کرتا کہ وہ غم میں مرجاویں۔ وہ دیکھتا ہے کہ ان کا غم محض اس کے لیے ہے۔ اُن سے اگر پوچھا جاوے کہ وہ کیوں اس قدر غم کھاتے ہیں تو بتلا نہیں سکتے کیونکہ ان کے تعلقات زاتیہ ہوتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی عظمت کے اظہار کے لیے وہ طبعی طور پر بے قرار ہوتے ہیں۔ اور اس میں اُن کے نفس کا کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا۔ کامل نفوس کے تعلقات جو اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ہوتے ہیں وہ اس قسم کے ہیں کہ اگر بہشت دوزخ بھی نہ ہو تب بھی وہ دور نہیں ہو سکتے۔ غرض انسان اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہ اﷲ تعالیا کی عظمت و جبروت کے لیے کس کس قسم کے قلق وکرب میں رہتے ہیں ۔جب یہ اضطراب حد سے بڑھ جات اہے تو پھر آسمانی نسان ظاہر ہوتا ہے۔ یہ سث ہے کہ خدا تعالیٰ بے پروا ہے۔ اگر ساری دنیا اس کی حمد و ستائس کرے اور کوئی بھی ا سکی خلا ف ورزی نہ کر ے تو اس کی شان ربوبیت اور الوہیت میں کثھ بھی زیادتی نہیں ہوسکتی اور نہ اس سے کوئی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اگر سب کے سب فسق و فجور میں مبتلا ہو جائیں۔مگر بات یہ ہے کہ جب ایک انسان اس کے لیے ہی کھپتا ہے تو آخر اُسے اپنی مستور ذات کو ظاہر کرنا پڑتا ہے۔ یہی سر ہے اس حدیث میں
کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف
اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب اﷲ تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلوں کا قلق ۔کرب حد سے بڑھتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے مجاہدات کا اتنا ہی نتیجہ نہیں ہوتا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو دیکھتے اور پہچانتے ہیں بلکہ دنیا پر بھی احسان کر جاتے ہیں کیونکہ اسے بھی دکھا دیتے ہیں۔
پس نرے چھلکے پر کفایت کر لینا کافی نہیں ہے۔ ایسی متاع چرائی جا سکتی ہے لیکن جو متاع حقیقی