اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا کیونکہ اس سے فتنہ پیدا ہوگا اور اﷲ تعالیٰ فتنہ کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح پر مامور کی مخالفت کرے تو سلب ایمان ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی مخالفت سے لازم آتا ہے کہ مخالفت کرنے والا خدا تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔ سوال: پھر اس وقت جو مولوی ہیں کیا اُن کو اولوالامر سمجھیں؟ جواب: اوخویشتن گم اُست کرار ہبری کند۔ اصل بات یہ ہے کہ جبتک اﷲ تعالیٰ کسی کی آنکھ نہ کھولے آنکھ کھلتی نہیں۔ ان لوگوں نے دین صرف چند رسوم کا نام سمجھ رکھ اہے؛ حالانکہ دین رسوم کا نام نہیں ہے۔ ایک زمانہ وہ ہوتا ہے جبکہ یہ باتیں محض رسم اور عادت کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اسی قسم کے ہو رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺکے زمانہ میں جن کو نماز اور روزہ سکھایا گیا تھا ان کا اور مذاق تھا اوہ حقیقت کو لیتے تھے اور اسی لیے جلد مستفیض ہوتے تھے۔ پھر مدت کے بعد وہی نماز اور روزہ جو اعلیٰ درجہ کی طہارت اور خدارسی کا ذریعہ تھا ایک رسم اور عادت سمجھا گیا۔ پس اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اصل امر دین کو جو مغز ہے تلاش کرے۔ سچے مذہب کی خصوصیات یاد رکھو انسان کو اﷲ تعالیٰ نے تعبد ابدی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے اس کو چاہیے کہ اسی میں لگا رہے۔ اس جہان کی جس قدر ثیزیں ہیں۔ بیوی،بچے،احباب،رشتہ دار، مال و دولت اور ہر قسم کے املاک ان کا تعالق اسی جہان تک ہے۔ اس جہان کو چھوڑنے کے ساتھ ہی یہ سارے تعلقات قطع ہو جاتے ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ ہے اور اس جہان میں بھی اور اس جہان میں بھی اس کی ضرورت ہے اس لیے سچا تعلق اسی کے ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ نجات ابدی اسی کے ساتھ وابستہ ہے جو خدا تعالیا کی معرفت، محبت اور صدق، وفاداری کے تعلق پیدا کرنے سے ملتی ہے۔ یہانتک تو سب مذاہب متفق ہیں وہ نجات کا یہی ذریعہ سمجھتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ بتیں حاصل کیونکر ہوں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں سے مذاہب کا تفرقہ شروع ہوتا ہے۔ اب جس مذاہب نے حصول نجات کے عمدہ وسائل پیدا کئے ہیں اور جو مذہب تاثیر اور جذب اور کشش اپنے اندر رکھتا ہے وہ سچا ہے لیکن جس مذہب کے اندر وہ تاثیر اور جذب نہیں جس کی عملی تاثیروں کا کوئی نمونہ پایا نہیں جاتا وہ خواہ خدا تعالیٰ کو واحد ہی کہے، لیکن جھوٹا ہے۔ یہ توحید اس کی محض قال کے رنگ میں ہے۔ حالی کیفیت اس میں پائی نہیں جاتی۔ حالی کیفیت تو اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ غیر کا وجود بالکل نابود ہو جاوے۔ اﷲ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنے والا ہو۔ اسی سے ہر ایک امید و خوف ہو۔ جبتک یہ بات عملی طو رپر پیدا نہ ہو نرے قال سے کچھ نہیں بنتا۔ مثلاً اﷲ تعالیٰ کو واحد سمجھتا ہے پھر دوسرے سے بھی تعلق رکھتا ہے تو توحید کہاں رہی؟