کرتا وہ معرفت کا خزانہ جو اسلام میں رکھا ہوا ہے اور جس کے حاصل ہونے پر گناہ آلودزندگی پر موت وارد ہوتی ہے ۔انسان خد ا تعالیا کو دیکھتا ہے اور اس کی آوازیں سنتا ہے اُسے نہیں مل سکتا؛ چنانچہ صاف طور پر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی فان الجنۃ ھی الماوی (النزعت : ۴۱،۴۲) یہ تو سہل بات ہے کہ ایک شخص متکبرانہ طور پر کہدے کہ میں اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور باوجود اس دعویا کے اس ایمان کے آثار اور ثمرات کچھ بھی پیدا نہ ہوں یہ نری لاف زنی ہوگی۔ ایسے لوگ اﷲ تعالیٰ کی کچھ پرواہ نہیں کرتے اور اﷲ تعالیٰ بھی ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ اصل بات یہی ہے کہ یہ دولت مجاہدہ اور محنت کے بغیر ہاتھ نہیں آتی ہے اور اُن راہوں پر ثلنا سب کے لیے ضروری ہے۔ یہانتک کہ انبیاء و رسل کے لیے بھی یہی راہ ہے۔ ان کو جو ھتوحات دیئے جاتے ہیں وہ اسی راہ سے ملتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام تو اس راہ میں فنا ہو جاتے ہیں اور وہی حالت ہوتی ہے جب ان سے معجزات صادر ہوتے ہیں۔ وہ عام لوگوں سے بالکل نرالی قوم ہوتی ہے۔ہر شخص تو یہ ثاہتا ہے کہ لوگ اس کی تعریھ کریں۔ اس کی عزت اور شہرت ہو۔ برخلاف اس کے انبیاء علیہم السلام اپنے نفس کو بالکل بھلا دیتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ ہی کی عزت اور عظمت کے بھوکے پیاسے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی عطمت اور جبروت کے اطہار کے لیے وہ ہر قسم کی ذلت کے برداست کرنے کو تیا رہو جاتے ہیں۔ وہ تمام دکھوں اور مصیبتوں کو برداست کرتے ہیں مگر ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔ ان کی ساری خواہشیں اور آرزوئیں اسی ایک بات پر آکر ختم ہو جاتی ہیں کہ کسی طرح پر اہل دنیا خدا تعالیا پر ایمان لاویں ۔انہیں سخت تکلیف پہنچتی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ مشرک اور خدا تعالیٰ سے دور لوگ اپنے بتوں اور معبودوں کی ایسی تعریف کرتے ہیں جو خدا تعالیا کی ہونی چاہیے۔ ایسا ہی وہ اس کو بھی برداست نہیں کر سکتے کہ لوگ ہر قسم کے فسق وفجور اور بد اعمالیوں میں مبتلا ہو کر خدا تعالیے منہ موڑیں۔ ایسی صورت میں اُن کے دل پر قلق اور کرب کا استیلا ء ہوتا ہے۔ پس جب اُن کے دکھوں اور تکلیف کا اندازہ حد سے گذر جاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ پھر گوارا نہیں کرتا کہ وہ اس طرح پر دکھ اُٹھائیں۔ اس لیے وہ کرامت یا نشان ظاہر کرتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ راستباز دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو انبیاء و رسل ۔ یہ تو اعلیٰ درجہ کے راستباز اور مقدس وجود ہیں۔ دوسری قسم کے وہ راستباز ہیں جو عام مومن ہوتے ہیں۔ لیکن اُن میں کچھ نہ کچھ بقایا نفس بھی موجود ہوتاہے۔ ان دوسرے درجہ کے لوگوں کو بھی اﷲ تعالیٰ کچھ نہ کچھ خوارق کا حصہ دی دیتاہے۔لیکن برے نشانوں کی مستحق وہی قوم انبیاء و رسل کی ہے جو کسی صورت میں بھی خدا تعالیا کے گیر کا جلال نہیں دیکھ سکتے۔ ان کی مصیبت اور دکھ اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے خلاف نہ دیکھ سکتے