عدم معرفت کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔ غرض اسلام اور دوسرے مذاہب میں جو امتیاز ہے وہ یہی ہے کہ اسلام حقیقی معرفت عطا کرتا ہے جس سے انسان کی گناہ آلود زندگی پر موت آجاتی ہے اور پھر اُسے ایک نئی زندگی عطا کی جاتیہے جو بہستی زندگی ہوتی ہے۔ میں سچ کہت اہوں کہ اگر قرآن شریف سے اعراض صوری یا معنوی نہ ہو تو اﷲ تعالیٰ اس میں اور اُس کے غیروں میں فرقان رکھ دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ پر کامل یقین اور ایمان پیدا ہوتا ہے۔ اس کی قدرتوں کے عجائبات وہ مشاہدہ کرتا ہے۔ اس کی معرفت بڑھتی ہے۔ اسکی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کو وہ حواس اور قویٰ دیئے جاتے ہیں کہ وہ ان چیزوں اور اسرار قدرت کو مشاہدرہ کرتا ہے جو دوسرے نہیں دیکھتے وہ ان باتوں کو سنتا ہے کہ اورون کو اُس کی خبر نہیں اسی لیے فرمایا من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل : ۷۳) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کے لیے انسان اسی عالم سے حواس لے جاتا ہے۔ اسی جگہ سے وہ بصارت لے جاتا ہے جو وہاں کی اشیاء اور عجائبات کو دیکھے اور یہاں ہی سے وہ شنوائی لے جات اہے جو سنے۔ گویا جواس جہان میں وہاں کی باتیں دیکھتا اور سنتا نہیں وہ وہاں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ یہ تھاما بہ الامتیاز اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان جس کو میرے مخالف پیش نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ نے اسی فرقان کو دے کر مجھے بھیجا ہے۔ اب سوال ہوتا ہے کہ جبکہ یہ مابہ الامتیاز ہے تو کیوں ہر سخص نہیں دیکھ لیتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سنت اﷲ اسی طرح پر واق ع ہوئی ہے کہ یہ بات بجز مجاہدہ، تو بہ اور تبتل تام کے نیں ملتی؛ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ والذین جاھدو افینا لنھد ینہم سبلنا (العنکبوت : ۷۰) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے انہی کو یہ راہ ملے گی۔ پس جو لوگ خد اتعالیٰ کے وصایا اور احکام پر عمل نہ کریں بلکہ اُن سے اعراض کریں اُن پر یہ دروازہ کس طرح کھل جائے۔یہ نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی سخص کہے کہ یہان ایک خزانہ مدفون ہے اور دس بارہ دن کی محنت کے بعد نکل سکتا ہے اور کوئی شخص محنت تو کرے نہیں اور یہ کہے کہ خزانہ مل جاوے ۔کیونکر ملے گا؟ اسی طرح پر یہ خزانہ اﷲ تعالیٰ نے اسلام میں رکھا ہے لیکن اس خزانہ کی کلید احکام اور ہدایتوں پر عمل ہے۔ اس کی وصیت اور ہدایت پر عمل کرنا اور محض خدا کے لیے نفس کو روک رکھنا یہ کنجی ہے اور اسلام ہی میں یہ ملتی ہے۔ من یبتگ غیر الاسلام دینا ھلن یقبل منہ (ال عمران : ۸۶) اسلام ایک چشمہ ہے۔ اگر کوئی شخص اس پر جا بیٹھا ہے اور منہ رکھ کر اس سے سیراب ہو کر نہیں پیتا تو اس کا اپنا قصور ہے۔ اس چشمہ کا کای قصور ہے؟ اگر کوئی سخ آفتاب کی طرف سے اپنے دروازے اور کھڑکیان بند کر لیتا ہے تو ضرور ہے کہ اس کے کمرہ میں تاریکی آجاوے اس میں آفتاب کا کوئی قصور نہیں۔ اس لیے جب تک انسان سچا مجاہدہ اور محنت نہیں