ہے کہ اس نے احسن طور پر خد اتعالیٰ کو دکھایا ہے اور کبھی انسان شرمندہ نہیں ہوسکتا۔ جس قسم کا خدا انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے وہ ایسا ہی اسلام میں پائے گی۔ کوئی نقص اور کمزوری اس میں نہیں ہے۔ اسلام ایسا مذہب ہے جو ایک ہی زندہ اور ابدی مذہب ہے، کیونکہ اس کی تاثیرات اور پھرل ہمیشہ تازہ بتازہ موجود رہتے ہیں، لیکن ہمارے مخالف علماء اسلام کی عام خوبیاں تو بیان کرتے ہیں کہ وہ توحید کی تعلیم دیتا ہے، لیکن ایک اعلیٰ درجہ کی خوبی کا انکار کرتے ہیں۔ ایسا تو ایک برہمو بھی کر سکتا ہے۔ ھرض کرو کہ اگر ایک برہمو کہے کہ بے شک
لا الاہ الا اﷲ
کی تعلیم عمدہ ہے اور میں بھی مانتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کی صفات بھی مانتا ہوں اور اﷲت عالیٰ کی قدرتوں پرایمان لاتا ہوں اور تمہاری طرح ہم بھی تناسخ کے نقص بیان کرتے ہیں۔ اور اس کی تردید کرتے ہیں۔ باوجود ان باتوں کے وہ آنحصرت ﷺ کی نبوت سے نکار کرتا ہے تو کیا اس کی اتنی باتیں قابل قدر ہو سکتی ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ا سلیے کہ اسلام کی جو اعلیٰ درجہ کی خوبی تھی وہ تو اس نے فروگذاشت کردی۔ اﷲ تعالیٰ کی ہستی کا یقینی ثبوت اور زندہ ثبوت تو آنحضرت ﷺ کی رسالت ہی تھی۔ جب اسے وہ نہیں مانتے تو معلوم ہوا کہ باقی جو کچھ ہے وہ بھی محض خیالی امر ہے۔ اسی طرح پر ہمارے مخالف علماء کی حالت ہو رہی ہے۔ وہ چیز جو میں دنیا کو دینی چاہتا ہوں وہ ان کے پاس نہیں اور اس سے وہ غفلت کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ انسان جبتک اﷲت عالیٰ کی ہستی کو سمجھ نہیں لیتا اور انا الموجود ہونے کی آواز نہیں سن لیتا نفسِ امّارہ پر گالب نہیں آتا۔ اسلام کی اصل غرض یہی تھی جو اب مفقود ہو چکی تھی۔ اس کے احیاء کے لیے مجھے بھیجا گیا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ دنای میں جس قدر کوئی کسی سے خوف کرتا ہے یا کسی کی طرف رغبت کرتا ہے۔ وہ معرفت کا ثمرہ ہوتا ہے۔ دیکھو اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ اس سوراخ میں سانپ ہے تو وہ کبھی اس میں ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ رات کے وقت اس مکان میں بھی داخل نہ ہوگا۔ ایسا ہی اگر معلوم ہو کہ یہاں ایک خزانہ مخفی ہے تو اس کی طرھ التفات پید اہوگی۔ اندھیرے میں اگر ایک چیز کو بکرا سمجھتا ہے تو جبتک اُسے بکرا سمجھا ہے پاس کھڑا رہے گا، لیکن یونہی جب یہ خیال ہوگا کہ وہ شیر ہے پھر وہاں نہیں رہ سکتا۔ اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ کسی چیز کی محبت اور خوف معرفت سے پیدا ہوتی ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی آدمی دانستہ زہر نہیں کھا سکتا۔ سنکھیا خواہ شہد میں بھی ملا ہوا ہو پھر بھی کوئی اسے نہیں کھائے گا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کو ہلاک کرنیوالی زہر ہے۔ لیکن اسی طرح پر گناہ بھی ایک زہر ہے جو انسان کی روح کو ہلاک کرتا ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خد اتعالیٰ کی ہستی پر ایمان رکھتا ہے تو پھر بڑی دلیری اور جرأت سے گناہ کیوں کرتا ہے۔ اگر اسے یہ معرفت ہو کہ کوئی محاسب بھی ہے تو اس قدر دلیری نہ کرے۔ یہ دلیری اور جرأت