کشف دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک کشف ایسا ہوتا ہے کہ اس میں گیبت حس زیادہ ہوتی ہے۔ دوسرا کشف ایسا ہوتا ہے کہ وہ بالکل بیداری کے رنگ میں ہوتا ہے اور دراصل ہوتی ہی بیداری ہے۔ اس قسم کے کشف کو خواب کبھی کہہ ہی نہیں سکتے، بلکہ ایسے کشف کو خواب کہنا ایسی ہی غلطی ہے جیسے کوئی دن کو رات کہہ دے۔ اس حالتِ کشف میں صاحب کشف وہ دیکھتا ہے جو دوسرے نہیں دیکھ سکتے اور وہ اسرار مشاہدہ کرتا ہے جو دوسروں کو نصیب نہین ہوتے۔اس بیداری میں (جو عام لوگوں کی حالت ہوتی ہے) اس بیداری کے مقابلہ میں صدہا پردے اور حجاب ہیں۔ اگر اس کو اندھا کہیں تو زیادہ مناسب ہے اور اگر بہرہ کہیں تو زیادہ موزوں ہے۔ لیکن اس کشفی بیداری میں اعلیٰ درجہ کی بینائی اور شنوائی عطا ہوتی ہے۔ جس میں صاحبِ کشف وہ حالات دیکھتا ہے جو کسی نے نہ دیکھے ہوں اور وہ باتیں سنتا ہے جو کبھی نہ سنی ہوں۔ پس اس قسم کی بیداری کے ساتھ وہ معراج تھا اور ایک لطیف اور راحانی جسم کے ساتھ تھا۔ انسان کے دو جسم ہیں۔ ایک زمینی اور دوسرا آسمانی جسم ہے۔ زمینی جسم کے متعلق قرآن شریف میں آیا ہے۔ الم نجعل الارض کفاتا (االمرسلت : ۲۶) پس آنحضرت ﷺ کا معراج جس جسم کے ساتھ ہوا وہ آسمانی جسم تھا۔ وہ معراج قابل تعریف نہیں جو عوام مانتے ہیں۔ ثونکہ ہر شخص اپنی حد تک بات کرتا ہے۔ بچہ اس حدتک ہی کہتاہے جو کھیل تک محدود ہو۔ کم علم اپنی حد تک ۔ اسی طرح یہ لوگ چونکہ اس حقیقت سے محض نا واقف ہیں اس لیے اعتراض کرتے ہین’ اصل بات یہی ہے کہ ایسا کشفی رنگ تھا کہ اس کو ہر گز خواب نہیں کہہ سکتے۔ یہ سثی بیداری تھی جس میں آنحضرت ﷺ کو وہ کمال حاصل ہوا۔ اور یہ حاصل نہیں ہو سکتا جبتک کامل درجہ کا تقدس اور تطہر نہ ہو۔ اس تقریر کو سن کر شیخ عبد الحق صاحب (جو اس نو مسلم کا نام ہے) نے کہا۔ یہ تو بالکل سچ ہے۔ افسوس یہ مخالف مولوی منبروں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ وہ معراج سے ہی منکر ہیں۔ اس پر پھر حضرت اقدس نے سلسلہ تقریر شروع کیا۔ فرمایا : اسلام اور دوسرے مذاہب میں مابہ الامتیاز جو کچھ اسلام کا زیور تھا جس پر اسلام کو ہمیشہ ناز تھا اور جو اسلام اور دوسرے مذاہب میں مابہ الامتیاز تھا اس سے یہ لوگ بالکل بے خبر ہیں۔ اسلام کے سوا جس قدر مذاہب دنیا میں موجود ہیں۔ اُن کی یہ حالت ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے محبوب کی بڑی تعریف کرے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہدے کہ ہاں ایک آنکھ اس کی نہیں اور دوسرا ساری تعریفیں کرنے کے بعد کہدے کہ اس کی شنوائی نہیں یا ایک ٹانگ نہیں۔ غرض کوئی نہ کوئی نقص ضرور مانتے ہیں۔ پورے طور پر کامل محبوب تسلیم نہیں کرتے۔ اسلام میں یہ خوبی