۱۳؍اگست ۱۹۰۵ء؁ دربار شام ایک نو مسلم صاحب رحیم آباد ؎ٰ سے آئے ہوئے تھے۔ حضرت حکیم الامت نے ان کی زبانی بیان کیا کہ وہ پنڈت دیانند صاحب کے ساتھ سات سال تک رہے ہیں۔پھر خود نو مسلم صاحب نے بیان کیا کہ مین نے ویدوں کو ایشور انند سے پڑھا ہے۔ حضرت حجۃ اﷲ مسیح موعود ؑ نے پوچھا کہ آپ کے قبول اسلام کی کیا تقریب ہوئی۔ جواباً کہا کہ اصل تو آپ کی پیشگوئیوں پر میری نظر تھی اور اس کے بعد دیوریا کے مباحثہ میں مجھ پر اسلام کی سچائی واضح ہو گئی اور میں مسلمان ہو گیا۔ معراج کی حقیقت اس کے بعد انہوں نے ساول کیا کہ معراج کے متعلق حضور کی کیا رائے ہے؟ کیا وہ جسمانی تھا یا روحانی؟ اس کے جواب میں حضرت اقدس نے زیل کی تقریر فرمائی : فرمایا: جبتک انسان بے خبر ہوتا ہے اس کی باتیں نری اٹکلیں ہی ہوتی ہیں ۔ ایسا ہی معراج کے متعلق لوگوں کا حال ہے۔ وہ اس کی حقیقت اور اصلیت سے بیخبر ہیں۔ ہم تو معراج کو بالکل بیداری تسلیم کرتے ہیں۔ ہاں ایک بیداری دنیاداروں کی ہے اور ایک بیداری عارفوں، صادقوں، نبیوں اور خدا رسیدہ لوگوں کی بیداری ہوتی ہے اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور تمام صادقوں اور عارھوں کے سرادر ہیں اس لحاظ سے یہ مرتبہ بھی آپ کا سب سے بڑھا ہوا ہے۔ معراج ایک کشفی معاملہ تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ