فرمایا: تناسخ کی دلیل میں جو امیر اور مھلس کا تفاوت پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک بیہودہ بات ہے۔ اس لیے کہ گنی کے لیے زکوٰۃ اور صدقات رکھے ہیں کہ وہ ادا کرے اور مفلس کے لیے صبر رکھا ہے اور دونون کے لیے اجر ہے۔ ا سکی ایسی مثال ہے جیسے کسی نے دو چار کوس کا راستہ طے کرنا ہو۔ ایک سخص کے پاس تو عمدہ عمدہ کھانے ہوں اور دوسرے کے پاس ستو ہی ہوں۔ دونوں ہی ا س راستہ کو طے کر لیں گے اور منزل مقصود پر جا کر اپنے اعمال کے موافق فائدہ اُٹھائیں گے۔؎ٰ ’’تناسخ پر تو اس قدر اعتراض ہوتے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک طرف تو یہ لوگ ناطہ رشہ میں دور دراز کی گوتوں اور ذاتوں کا لحاظ کرتے ہیں۔۲؎ دوسری طرف اگر بچہ کی ماں یا بہن اس کی چھوٹی عمر میں مرجاوے اور کسی دوسری جگہ جنم لے کر اس کے ساتھ بیاہی جاوے تو اس کے روکنے کا کیا انتظام ہے۳؎؟ اور پھر تناسخ کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ جرائم کے انواع بھی تجویز کریں۔ کیونکہ جس کثرت سے کیڑے مکوڑے پید اہوتے ہیں۔ یہ سب جرائم ہی کی وجہ سے ہوں گے؟ اور پھر ہر جون کا گناہ الگ چاہیے۔ اس قسم کے بہت سے اعتراض اس مسئلہ پر وارد ہوتے ہیں۔۴؎ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ صفحہ ۴ موخرہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۵ء؁