جنگ کرتا ہے اور اس طرح پر اکثر تکالیف میں سے ہو کر گذرتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ قضاء و قدر خود اس پر کچھ تکالیف نازل کر دیتی ہے اور اس ذریعہ سے اسے صاف کرتی ہے۔ اس طریق میں بچہ اور انبیاء علیہم السلام کہ بے گناہ اور معصوم ہوتے ہیں اس پر بھی مصائب اور شدائد ان پر آتے ہیں وہ محض ان کی تکمیل اور ان کے اخلاق اور صدق وفا کے اظہار کے لیے۔
انسان کے لیے سعی اور مجاہدہ ضروری ثیز ہے اور اس کے ساتھ مصائب اور مشکلات بھی ضروری ہیں۔
لیس للانسان الا معسعی (النجم : ۴۰)
جو لوگ سعی کرتے ہیں وہ اس کے ثمرات سے فائدہ اّٹھاتے ہیں اسی طرح پر جو لوگ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور نفس کی قربانی کرتے ہیں۔ ان پر الٰہی قرب و انوار و برکات اور قبولیت کے آثار طاہر ہوتے ہیں اور بہشت کا نقشہ ان پر کھولا جاتا ہے۔
یہ لوگ؎ٰ اس راہ سے بے خبر ہیں اور ان انعامات سے بے بہرہ۔ اس لیے ایسے گندے اور بیہودہ اعتراض کرتے ہیں۔ ان کے ہاں تو نجات کسی کو ملتی ہی نہیں ہے۔ یہی درجہ ہے کہ وہ تناسخ مان بیٹھے ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ اس عالم کی تکالیف کا اجر دوسرے عالم میں ملتا ہے۔ جس طرح پر انبیاء ورسل کو ملتا ہے اسی طرح پر دوسرے لوگوں کو ملتا ہے۔ سنت اﷲ یہی ہے۔ اور انسانی کمزوری ضروری تھی تا کہ وہ خد اکا ہمسر نہ ہو۔ ہاں اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے مظہر تجلیات الٰہیہ ہوتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مصائب اور شدائداٹھائے اور بہت سی ماریں کھائے۔۲؎یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس کی سچائی تجربہ سے ثابت ہو رہی ہے۔ پس جب ایک واقعہ تجربہ سے ثابت ہو جاوے تو اس پر بحث فضول ہے۔