چلے ہوئے کسی بے تعلق کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تو میرا دوست ہے او نہ ہی اس کے لیے دردِ دل پیدا ہوتاہے۔اور نہ ہی جوش دعا پیدا ہوسکتا ہے۔اﷲ تعالیٰ سے تعلق اس طرح نہیں ہوسکتا کہ انسان غفلت کا ریوں میں مبتلا بھی رہے اور صرف منہ سے دم بھرتارہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لیا ہے۔اکیلے بیعت کا اقرار اور سلسلہ میں نام لکھ لینا ہی خد اتعالیٰ سے تعلق پر کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔اﷲ تعالیٰ سے تعلق کے لیے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ہم بار بار اپنی جماعت کو اس بات پر قائم ہونے کے لیے کہتے ہیں ۔کیونکہ جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اﷲ تعالیٰ کے لیے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ثبات میسر نہیں آسکتا۔بعض صوفیوں نے لکھا ہے کہ صحابہؓ جب نماز یں پڑھا کرتے تھے تو انہیں ایسی محویت ہوتی تھی کہ جب فارگ ہوتے تو ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکتے تھے۔جب انسان کسی اور جگہ سے آتا ہے تو شریعت نے حکم دیا ہے کہ وہ آکر السلام علیکم کہے۔نماز سے فارغ ہونے پر السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہنے کی حقیقت یہی ہے کہ جب ایک شخص نے نماز کا عقد باندھا اور اﷲ اکبر کہا تو اوہ گویا اس عالم سے نکل گیا اور ایک نئے جہان میں جا داخلہوا۔گویا ایک مقامِ محویت میں جا پہنچا۔پھر جب وہان سے واپس آیا تو السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہہ کر آن ملا۔لیکن صرھ ظاہری صورت کافی نہیں ہوسکتی جب تک دل میں اس کا اثر نہ ہو چھلکوں سے کیا ہاتھ آسکتا ہے۔محض صورت کا ہوان کافی نہیں ۔حال ہونا چاہیے۔علت غائی حال ہی ہے۔مطلق قال اور صورت جس کے ساتھ حال نہیں ہوتا وہ تو اُلٹی ہلاکت کی راہیں ہیں۔انسان جب حال پیدا کر لیتا ہے اور پانے حقیقی خالق و مالک سے ایسی سچی محبت اور اخلاص پیدا کر لیتا ہے کہ بے اختیار اس کی طرف پرواز کرنے لگتا ہے اور ایک حقیقی محویت کا عالم اس پر طاری ہو جاتا ہے، تو اس وقت اس کیفیت سے انسان گویا سلطان بن جاتا ہیذرہ ذرہ اس کا خادم بن جاتا ہے۔
مجھے تو اﷲ تعالیٰ نے ایسی محویت دی تھی کہ تمام دنیا سے الگ ہو بیٹھا تھا۔تمام چیزیں سوائے اس کے مجھے ہرگز بھاتی نہ تھیں۔میں ہرگز ہر گز حجرہ سے باہرقدم رکھنا نہیں چاہتا تھا۔میں نے ایک لمحہ کے لیے بھی شہرت کو پسند نہیں کیا۔میں بالکل تنہائی میں تھا اور تنہائی ہی مجھ کو بھاتی تھی۔شہرت اور جماعت کو جس نفرت سے میں دیکھتا تھا اس کو خدا ہی جانتا ہے۔میں تو طبعاً گمنامی کو چاہتا تھا اور یہی میری آرزو تھی۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر جبر کر کے اس سے مجھے باہر نکالا۔میری ہرگز مرضی نہ تھی مگر اس نے میری خلاف ِ مرضی کیا کیونکہ وہ ایک کام لینا چاہتا تھا۔اسی کام کے لیے اس نے مجھے پسند کیااوراپنے فضل سے مجھ کو اس عہدہ جلیلہ پر مامور فرمایا۔یہ اسی کا اپنا انتخاب اور اکم ہے۔میرا اس میں کچھ دخل نہیں۔میں تو دیکھتا ہوں