انبیاء علیہم السلام جو بالکل معصوم اور مقدس وجود ہوتے ہیں وہ بھی تکالیف اور شدائد کا نسانہ بنتے ہیں۔؎ٰاور ایسے مصائب ان پر آتے ہیں کہ اگر کسی اور پر آئیں تو وہ برداشت ہی نہ کرسکے۔ ہر طرف سے ان کے دشمن اُٹھتے ہیں۔کوئی باتوں سے دکھ دیتا ہے۔کوئی حکام وقت کے ذریعہ تکلیف دینے کا منصوبہ کرتا ہے کوئی قوم کو اس کے برخلاف اکساتا ہے۔ غرض ہر پہلو سے اس کو تکلیف دی جاتی ہے اور ہر طرح کی بے آرامی اور حزن و گم اُن پر آتا ہے۔ باوجود اس کے ان ساری باتوں کا کچھ بھی اثر اُن پر نہیں ہوتا اور وہ پہار کی طرح جنبش نہیں کرتے۔کیا اس سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ گنہگار ہیں؟ ہر گز نہیں۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو اس سے بڑھ کر بیہودگی اور کیا ہوگی۔ بچوں کی تکالیف کا مسئلہ انبیاء علیہم السلام کے مسئلہ سے خوب حل ہوتا ہے۔ معصومیت کے لحاظ سے بچہ سمجھ لو۔یہ مصائب عبودیت کی تکمیل کے لیے ہیں۔۲؎ اور عالم آخرت کے لیے مفید ہیں۔ اگر ایسی حالت ہوتی کہ مرنے کے بعد بچہ کی روح مفقود ہو جاتی تو بھی اعتراض کا موقعہ ہوتا۔ لیکن جب جاودانی عالم اور ابدی راحت موجود ہے۔ تو پھر یہ سوال ہی کیوں ہے؟ اگر یہ سوال ہے کہ بغیر تکلیف کے اس ابدی راحت میں داخل کردے تو پھر کہیں گے کہ معاصی کا بکھیڑ اکیوں ہے اس کے ساتھ ہی داخل کر سکتا تھا۔۳؎ اس کا جواب یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنی ذات میں غنی بے نیاز ہے۔ انسان کو نجات اور ابدی آسائش کے حصول کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا چاہیے۔ جب تک وہ تکالیف اور شدائد نہیں اُٹھاتا ۔ راحت اور آسائس نہیں پا سکتا۔
یہ شدائد دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو انسنا خود مجاہدات کرتا ہے۔ اپنے نفس کے ساتھ