۱۱؍اگست ۱۹۰۵ء
دربار سام
تناسخ
حضرت حکیم الامت کا بثہ عبد القیوم بیمار تھا۔ گذشتہ شب کواسے تکلیف تھی۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کا حال پوچھ رہے تھے۔ اسی ذکر میں حضرت حکیمالامت نے کہا کہ میں اس سوال پر سوچتا رہا کہ آریہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ بچوں کو جو دکھ یا تکالیف پہنچتی ہیں یہ ان کے پچھلے جنم کا نتیجہ ہے۔ اس تحریک پر حضرت اقدس نے زیل کی تقریر فرمائی:
یہ تو بالکل بیہودہ عقیدہ ہے۔؎ٰ اول تو یہ بھی قابل گور امر ہے کہ آیا بچے اس قدر تکلیف محسوس بھی کرتے ہیں یا نہیں جس قدر ماں باپ محسوس کرتے ہیں، کیونکہ حس بھی عقل کے ساتھ ہی بڑھتی ہے۔ اور علاوہ بریں بچہ بھی جو بہشت میں داخل ہوگا تو کسی حق ہی سے ہوگا اس لیے اس قسم کی تکالیف اُٹھاتا ہے۔۲؎
تکالیف اور شدائد کا فلسفہ
اصل بات یہ ہے کہ انسانی فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ زود کوب ہی سے درست ہوتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کی ربوبیت انسان کی تکمیل چاہتی ہے اور خود عبودیت کا بھی تقاضا ہے کہ کسی نہ کسی طرح تکمیل کرے۔ اس لیے منجملہ تکمیل کی صورتوں کے ایک شدائد اور مصائب بھی ہیں۔