غیر معمولی موسم کا نشان آسمان پر گروغبار سے بارش نہ ہونے اور موسم میں ایک غیر معمولی رنگ رہنے کا ذکر تھا۔فرمایا : ایک دن سخت گرمی اور لوگوں کی گھبراہٹ کو دیکھ کر میں دعا کرنے لگا تھا مگر پھر مجھے خیال آیا کہ اﷲ تعالیٰ یہ جو کچھ کر رہا ہے ہماری ہی تائید کر رہا ہے۔ آج اگر طاعون اٹھ جائے۔ زلزلوں سے امن ہو جائے اور فصلیں خوب پک جائیں تو پھر لوگوں کا یہی کام ہوگاکہ امن پاکر ہم کو گالیاں دینے میں مصروف ہو جائیں۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں زور آور حملوں سے تیری سچائی کو ظاہر کر دوں گا۔ یہی اس کے حملے ہیں۔پس ہم ان حملوں کو روکنے کے واسطے کیوں دعا کریں؟ دنیا کے آرام میں ہمارا آرام نہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے۔ وہ ہمارے لیے ہی ہو رہا ہے اور ہمیشہ سے عادت اﷲ اسی طرح جاری ہے ۔ جب ہمارے ہر امر کا متولی خد اتعالیٰ ہے تو ہمیں کیا غم ہے۔ جو ہو گا کوئی نشان ہی ہوگا۔ بدر جلد ۱ نمبر ۲۰ صفحہ ۲،۳ مورخہ ۱۷ ؍اگست ۱۹۰۵ء؁