کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور نبی کریم ﷺ کو مخاطب کیا ہے۔ ھوالذیایدک بنصرہ وبالمومنین والف بین قلوبہم ۔ لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبہم ولکن اﷲ الف بینہم انہ عزیز حکیم (الانفال :۶۳‘ ۶۴) وہ خدا جس نے اپنی نصرت سے اور مومنوں سے تیری تائید کی اور ان کے دلوں میں ایسی اُلفت ڈالی کہ اگر تو ساری زمین کے ذخیرے خرث کرتا تو بھی ایسے الفت پیدا نہ کرسکتا، لیکن خدا نے ان میں یہ الفت پیدا کردی۔ وہ غالب اور حکمتوں والا خدا ہے۔ جس خدا نے پہلے یہ کام کیا وہ اب بھی کر سکتا ہے۔ آئندہ بھی اسی پر توکل ہے جو کام ہونے والا ہوتا ہے اس میں خدا کے فضل کی روح پھونکی جاتی ہے جیسا کہ باغبان اپنے باغ کی آبپاشی کرتا ہے تو وہ تروتازہ ہوتا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ اپنے مرسلین کے سلسلہ کو ترقی اور تازگی عطا فرماتا ہے۔ جو فرقے صرف اپنی تدبیر سے بنتے ہیں ان کے درمیان چند روز میں ہی تفرقے پیدا ہو جاتے ہیں جیسا کہ برہمو تھوڑے دن تک ترقی کرتے کرتے آخررک گئے اور دن بدن نابود ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان کی بنا صرف انسانی خیال پر ہے۔ ہماری جماعت کے متعلق خدا تعالیٰ کے بڑے برے وعدے ہیں۔ کوئی انسانی عقل یا دور اندیشی یا دنیوی اسباب ان وعدوں تک ہم کو نہیں پہنچا سکتے۔؎ٰ اﷲ تعالیٰ خود ہی سب اسباب مہیا کردے گا۔ تب یہ کام انجام کو پہنثے گا۔ اگر بالفرض ہماری جماعت کی تعداد بیس پچیس لاکھ تک پہنچ کر ٹھہر جائے تو پھر بھی کیا ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ اتنی تعداد سکھوں کی بھی ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ساری دنیا اس جماعت سے بھر جائے اور یہ انسان کا کام نہیں۔ انسان کی زندگی کا تو ایک دم کا اعتبار نہیں۔ وہ کیا کر سکتا ہے۔