خدا تعالیٰ کا ارادہ اسلام نے وحشیوں کو حقیقی انسانیت تک پہنچایا۔ اُن کے اندر توحید کی روح پھونک دی مگر انجیل کی تعلیم نے صرھ یہ سکھایا کہ ایک انسان کو خدا بنانے کے لیے رگبت دی اور شراب اور سؤر کھلایا اور خدا تعالیٰ کی سچی عبادت سے آزاد کرکے اباحت کا دروازہ کھولا۔ پس چونکہ عیسائی مخلوق پرستی اور آزادی کے عادی ہو گئے ہیں۔ اس لیے نہیں چاہتے کہ سچا دین زمین پر پھیلے۔ مگر خدا کے ارادہ کو کون پلٹ سکتا ہے۔ ان لوگوں کی لرائی ارادۂ الٰہی کے ساتھ ہے۔ انسانی کوششوں سے اب یہ جنگ فتح نہیں ہوسکتی۔ مگر خدا تعالیٰ سب پر قادر و توانا ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ قادر ہے کہ نیازمین و آسمان بنادے۔ عرب کی پہلی حالت کہ وہ کس گند میں پڑے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے تھے دیکھ کر اور پھر ان کی پچھلی حالت اسلامی دیکھ کر تسلی ہوتی ہے کہ خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔ ساری دنیا پر اثر ڈالنااور اُن کو اباحت کے گندے خیالات سے نکال کر اسلام کا پاک جامہ پہنانا انسانی کام نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہی دنیا کی اصلاح فرماسکتا ہے ہماری کوششیں تو بچوں کا کھیل ہے نہ لوگوں کے دلوں سے ہم وہ گند نکال سکتے ہیں جو آجکل دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے نہ کمال محبت الٰہی کا اُن کے اندر بھر سکتے ہیں۔ نہ اُن کے درمیان باہمی کمال اُلفت پیدا کر سکتے ہیں جس سے وہ سب مثل ایک وجود کے ہو جائیں۔ یہ اﷲ تعالیٰ کے کام ہے؛ چنانچہ قرآن شریف میں صحابہؓ