خدا تعالیا کے فضل پر موقوف ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اعمال سے شناخت ہو سکتا ہے کہ کونسا مذہب سچا ہے تو وہ لوگ جو راہزنی اور قزاقی کرتے ہیں اِن سے پوچھا جاوے تو وہ اُسے مکر وہ وہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک شکار سمجھتے ہیں۔ اسی طرح اور لوگ جو فسق و فجور میں مبتلا ہیں وہ برا نہین سمجھتے۔ یہ کوئی بات نہیں ہے۔ اصل یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فضل اور فیض کے برکات اور انوار ساتھ ہوں۔ غرض اول یہ ضروری ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے متعلق غور کرے اور سمجھے۔ سب سے اول اسی کا فرض ہے اور یہ سمجھ ملنا اس کے فضل پر موقوف ہے۔ پھر دعا کرے اور نیک صحبت میں رہے اور یہ بھی خیال کرے کہ عمر کا کوئی اعتبار نہیں۔ بعض لوگ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ فلاں وقت اس نیکی کو کر لیںگ ے مگر وہ اس انتظار ہی میں رہتے ہیں اور موت آجاتی ہے۔ اس لیے نیکی کے اختیار کرنے میں دیر نہیں چاہیے۔؎ٰ ۱۰؍اگست ۱۹۰۵ء؁ قبل از عشاء سچی اور آسمانی تہذیب ذکر آیا کہ ایک انگریزی اخبار میں مضمون نکلا ہے کہ اسلام ہند میں نہیں پھیلا کیونکہ ہندو خود مہذب تھے اور کسی مہذب قوم میں اسلام پھیل نہیں سکتا۔ فرمایا : یہ جھوٹ ہے ہندوستان میں سوائے چند ایک قوموں کے جو باہر سے آئی ہیں۔ (قریش۔ مغل۔ پٹھان) باقی سب ہند کے باسند ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا مثلاً شیخ ۔ خواجگان۔زمینداروں کی سب اقوام وغیرہ۔ یہ سب پہلے ہندو تھے۔ فرمایا : عیسائیوں کا عجیب طریقہ ہے۔ اگر کثرت دکھائی جاوے تو کہتے ہیں جبراً مسلمان ہوئے اور اگر کثرت نہ دکھائی جاوے تو کہتے ہیں اسلام کا کچھ اثر نہ ہوا۔فرمایا : تہذیب بھی ان کا اپنا بنایا ہوا ایک لفظ ہے، جس کے معنے ان کی اصطلاح میں سوائے اس کے نہیں کہ انسان خدا کی مقرر کردہ رسموں کو توہین سے دیکھے اور دنیا پرستی اور دہریہ پن کی طرف جھک جائے۔ سچی تہذیب وہ ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی۔؎ٰ جس کے ذریعہ سے روحانی زندگی حاصل ہوتی ہے اور انسان اور حیوان میںفرق معلوم ہوتا ہے۔ اور جسکے