بھلا یہ بھی کوئی تعلیم اور اصول ہے کہ زرہ زرہ کو خدا اقرار دے دیا جاوے جیسے خد اازلی ابدی ہے۔ اسی طرح پر زرات عالم اور ارواح کو بھی ازلی ابدی تسلیم کیا جاوے۔ اگر ایسا کوئی خد اہے کہ جس نے ایک ذرہ بھی کسی قسم کا پید انہیں کیا تو اس پر بھروسہ کیسا؟ اور اس کا ہم پر حق کیا ہے جو عبادت کریں کیونکہ عبادت کے لیے حق بھی تو ہونا چاہیے جب کوئی حق ہی نہ ہو تو ایک ذرہ ذرہ اُسے کہہ سکت اہے کہ تیرا ہم پر کیا حق ہے اس عقیدہ کو رکھ کر انسان کس طرح پر خدا پرست ہو سکتا ہے بلکہ میرے نزدیک خد اتعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہی قائم نہیں ہو سکتی۔ اگر آریوں سے کوئی دہریہ پوچھے کہ پرمیشر کی ہستی کا کیا ثبوت ہے تو اس کا جواب وہ کیا دے سکتے ہیں۔ کیونکہ صانع کو مصنوعات سے شناخت کرتے ہیں۔ جبکہ مصنوعات ہی کا وجود نہیں تو صانع کا وجود کہان سے آیا۔ جیواورپر کرتی کو جو خود بخود تسلیم کرتے ہیں تو پھر اُن کے جوڑنے جاڑنے کے لیے کیا حاجب ہو سکتی ہے۔ اس طرح پر کوئی دلیل اﷲ تعالیا کی ہستی پر اُن کے ہاتھ میں نہیں اور جبتک اس کی ہستی پر کوئی دلیل نہ ہو کس طرح کوئی مان لے کہ وہ ہے۔
ماسوا اس کے ان لوگوں کا یہ بھی اصول نہیں کہ خد ارحم کرنیوالا ہے۔ ہر شخص کی اس ہستی پر توجہ ہوتی ہے جسے رحیم۔ کریم۔ فیاض تسلیم کرے۔ لیکن انہوں نے یہ مانا ہوا ہے کہ بگیر کرموں کے پھل کے اور کچھ عطا ہی نہیں کر سکتا۔ اگر کرموں پر ہی سارا مدار ہے تو اس خدا پر کیا بھروسہ اور کای امید جس کا زرہ بھر بھی احسان نہیں ہے۔
یہ تمام امور ہیں جب انسان ان کو بنظر غور دیکھتا ہے تو اُسے معلوم ہو جاتا ہے کہ سوائے اسلام یک دوسرون میں سچی ہدایتیں نہیں ملتی ہیں۔
ماسوا اس کے ایک اور بری بات قابل گور ہے کہ اسلام میں بہت بڑی خاصیت یہ ہے کہ انسان جس مطلب کے لیے بنایا گیا ہے وہ اسلام کے سوا حاصل نہیں ہو سکتا۔ وہ کیا ہے؟ یہ کہ خد اتعالیٰ کی محبت بڑھے اور اس کی معرفت ترقی کرے جس سے وہ ایک کامل سوق زوق کے ساتھ اس کی عبادت کرے۔لیکن یہ مطلب کبھی پورا نہیں ہو سکتا جبتک تعلیم اور ہدایت کامل نہ ہو اور پھر اس تعلیم اور ہدایت پر عمل کرنے کے جو نتائج اور ثمرات ہیں ان کا نمونہ موجود نہ ہو جس کو دیکھ کر معلوم ہو کہ دخا قادر خد اہے۔
یہ ساری باتیں اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب انسان پر گور مطالعہ کرتا ہے۔ عقلمند اور سعید کے دل میں تو اﷲ تعالیٰ خود ہی ایک واعط پیدا کر دیتا ہے اور وہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں اسی طرخ امتیاز کر لیتا ہے جس طرح پر تاریکی اور نور میں کر لیتا ہے لیکن بعض شخص ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے دل پر ایک مہر ہوتی ہے وہ حقیقت تک پہنچنے کی سعی نہیں کرتے بلکہ بیہودہ اعتراض کرتے ہیں۔ سعادت خدا تعالیٰ کی عطا اور بخشش ہے کوئی شخص جبتک روح حق اور راستی سے مناسبت نہیں رکھتا ہے اس طرف آہی نہیں سکتا اور یہ